
کولکاتا، 30 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے۔ ہفتہ کو ابھیشیک بنرجی پر مبینہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کا تشدد جمہوری نظام میں ناقابل قبول ہے اور بی جے پی کو اس واقعہ پر شرم آنی چاہئے۔
ممتا بنرجی کا رد عمل سونار پور، جنوبی 24 پرگنہ ضلع میں ایک واقعہ کے بعد آیا، جہاں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا کے رکن ابھیشیک بنرجی کو اس وقت احتجاج اور مبینہ حملہ کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک متوفی ترنمول کارکن کے اہل خانہ سے ملنے جا رہے تھے۔ واقعے کے دوران یہ الزامات سامنے آئے کہ ان پر انڈے، جوتے اور دیگر اشیاء پھینکی گئیں۔ اس واقعے کے بعد ریاست کے سیاسی منظر نامے میں الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر، ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ سیاسی اختلاف کی آڑ میں تشدد اور انتشار کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت اختلاف رائے کے اظہار کا حق دیتی ہے لیکن پرتشدد طریقوں کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ احتجاج پہلے سے طے شدہ تھا اور بی جے پی کے حامیوں نے اسے منظم کرنے میں کردار ادا کیا۔ پارٹی رہنماؤں کا الزام ہے کہ ابھیشیک بنرجی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو قانونی طریقہ سے آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کریں گے۔
اس واقعے کے بعد مغربی بنگال کی سیاست میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اس معاملے پر ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان زبانی جنگ جاری ہے، جب کہ سیاسی حلقوں میں اس واقعے کے حوالے سے مباحثہ تیز ہو گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد