
اس سال 15 مئی تک 4 ہزار 376 بچوں تک فوری مدد پہنچائی گئی
بھوپال، 30 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش میں ’چائلڈ ہیلپ لائن-1098‘ ریاست کے بحران زدہ، استحصال کے شکار اور بے سہارا بچوں کے لیے ایک بیحد مضبوط اور ناقابل تسخیر حفاظتی کوچ بن کر ابھری ہے۔ مالی سال 26-2025 میں اس ہیلپ لائن کے ذریعے 30 ہزار 810 بحران زدہ بچوں کو امداد پہنچی اور انہیں نئی زندگی ملی۔
پبلک ریلیشنز آفیسر بندو سنیل نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی تقریباً ڈھائی سالہ مدت کار میں ریاست نے خواتین اور اطفال کی ترقی کے شعبے میں حساسیت اور گورننس کے نئے معیار قائم کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ریاست کے محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کی جانب سے ’مشن واتیلیہ‘ اسکیم کے تحت چائلڈ ہیلپ لائن 24 گھنٹے کام کر رہی ہے۔ یہ ہیلپ لائن ریاست میں ہزاروں بچوں کو تشدد، چائلڈ لیبر اور انسانی اسمگلنگ کے چنگل سے چھڑا کر ان کی بحالی کو یقینی بنا رہی ہے۔ حکومت کے اس مؤثر اقدام سے نہ صرف بحران کے وقت بچوں کو ہنگامی امداد مل رہی ہے، بلکہ انہیں ایک محفوظ اور خوف سے پاک ماحول بھی مل رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس ہیلپ لائن کی وسعت اور ریسپانس ٹائم (ردعمل کے وقت) میں بے مثال بہتری آئی ہے، جس کا اندازہ محکمہ کے اعداد و شمار سے صاف لگایا جا سکتا ہے۔ مالیاتی سال 26-2025 میں اس ہیلپ لائن سے ریکارڈ 30 ہزار 810 بحران زدہ بچوں کو امداد پہنچائی گئی۔ وہیں، موجودہ مالیاتی سال 27-2026 میں بھی ہیلپ لائن کی ٹیم پوری مستعدی سے ڈٹی ہوئی ہے، جہاں محض 15 مئی تک ہی 4 ہزار 376 بچوں تک فوری مدد پہنچائی جا چکی ہے۔ اب تک 2 ہزار 367 معاملات کو پوری طرح سے حل کیا جا چکا ہے، جبکہ بقیہ معاملات میں ضلع سطح پر فالو اپ کارروائی تیزی سے جاری ہے۔
پبلک ریلیشنز آفیسر نے بتایا کہ ’مشن واتیلیہ‘ کے تحت نئے روپ میں چلائی جا رہی اس ہیلپ لائن کو مزید ہائی ٹیک اور چست ریسپانس سسٹم سے لیس کیا گیا ہے۔ ہیلپ لائن پر آنے والی کالز کو ان کی سنگینی کی بنیاد پر 2 حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی بچہ کسی سنگین یا فوری خطرے میں ہوتا ہے، تو وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی ’زیرو ٹولرنس‘ پالیسی کے تحت اس ہنگامی معاملے کو فوراً ’ریسپانس سپورٹ سسٹم‘ یعنی آر ایس ایس-112 کو ٹرانسفر کیا جاتا ہے، تاکہ محکمہ داخلہ اور پولیس کی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ سکے۔ غیر ہنگامی معاملات کو متعلقہ ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ (ڈی سی پی یو) کو بھیجا جاتا ہے۔
اس ہیلپ لائن سے ریاست کے بچوں کو صرف ریسکیو ہی نہیں کیا جا رہا، بلکہ انہیں مناسب تحفظ دیا جا رہی ہے۔ اس میں بچوں کو تشدد اور استحصال سے بچانا، ان کے قانونی حقوق کی معلومات دینا، ذہنی اور سماجی مشاورت فراہم کرنا، چائلڈ لیبر سے آزادی اور سب سے اہم، لاپتہ بچوں کا ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملاپ کرانا شامل ہے۔ بے گھر ہوئے یا انسانی اسمگلنگ کا شکار بچوں کے لیے یہ ہیلپ لائن ایک نئی زندگی کی شروعات ثابت ہو رہی ہے۔
ریاست کی راجدھانی بھوپال سمیت اندور، جبل پور، گوالیار، ساگر اور ستنا جیسے بڑے اضلاع میں ہیلپ لائن کا نیٹ ورک سب سے زیادہ سرگرم رہا ہے اور یہاں بڑی تعداد میں بچوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا ماننا ہے کہ ہمارا مقصد صرف ہنگامی امداد دینا نہیں، بلکہ ہر بچے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
محکمہ نے مدھیہ پردیش کے تمام بیدار شہریوں، دانشور طبقے اور دیہی باشندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست کے بچوں کے تئیں اپنی سماجی ذمہ داری نبھائیں۔ ریاست کے کسی بھی کونے میں اگر کوئی بچہ مصیبت میں، بال وباہ (بچپن کی شادی) کا شکار، چائلڈ لیبر کرتا ہوا یا کسی بھی قسم کے استحصال سے پریشان دکھائی دے، تو مونی (خاموش تماشائی) نہ بنیں۔ ریاستی حکومت کی ’چائلڈ ہیلپ لائن-1098‘ پر فوراً اس کی اطلاع دیں، تاکہ وقت رہتے مدھیہ پردیش کے ہر معصوم کا مستقبل محفوظ اور خوشحال بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن