ایم پی کے کھنڈوا میں گائے کے باقیات ملنے سے تناو، چار ملزمان حراست میں
برہم ہندو نوجوانوں نے ملزمان کی بائیک میں کی توڑ پھوڑ بھوپال/کھنڈوا، 30 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا ضلع کی مندوڑہ گرام پنچایت کے تحت آنے والے مسلم اکثریتی گاوں بڑیا تلا میں گائے کے باقیات ملنے کے بعد سے علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئ
ایم پی کے کھنڈوا میں گائے کے باقیات ملنے سے تناو


برہم ہندو نوجوانوں نے ملزمان کی بائیک میں کی توڑ پھوڑ

بھوپال/کھنڈوا، 30 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا ضلع کی مندوڑہ گرام پنچایت کے تحت آنے والے مسلم اکثریتی گاوں بڑیا تلا میں گائے کے باقیات ملنے کے بعد سے علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جمعہ کی دیر رات کچھ ملزمان کی جانب سے پولی تھین میں بھر کر گائے کے سر اور پیر سڑک کے کنارے پھینکے جا رہے تھے، تبھی پڑوسی گاوں کے ہندو نوجوانوں نے انہیں دیکھ لیا۔ ملزمان اپنی موٹر سائیکل موقع پر ہی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ پولیس نے 4 ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔

بڑیا تلا گاوں میں جمعہ کی دیر رات تقریباً 11 بجے پولی تھین میں بھر کر گائے کے سر اور پیر سڑک کے کنارے پھینکے جا رہے تھے۔ اسی دوران پڑوسی گاوں کے ہندو نوجوان وہاں پہنچ گئے۔ پکڑے جانے کے ڈر سے بائیک سوار ملزمان موقع سے بھاگ نکلے۔ اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی موقع پر بھاری تعداد میں دیہی باشندے اور نوجوان جمع ہو گئے اور زبردست ہنگامہ شروع ہو گیا۔ برہم ہجوم نے موقع پر پہنچی پولیس کے سامنے ہی ملزمان کی چھوڑی ہوئی موٹر سائیکل میں توڑ پھوڑ کر دی۔

صورتحال خراب ہوتی دیکھ سی ایس پی ابھینو بارنگے بھاری پولیس فورس کے ساتھ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور سوجھ بوجھ سے حالات کو کنٹرول کیا۔ سی ایس پی بارنگے نے بتایا کہ پولیس نے موقع سے گائے کا گوشت، باقیات اور ملزمان کی بائیک کو ضبط کر لیا ہے۔ علاقے میں احتیاط کے طور پر موگھٹ روڈ تھانہ اور رامیشور چوکی کی بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

پولیس نے ویٹرنری ڈاکٹر سے گئو ونش کی ابتدائی تصدیق ہونے کے بعد رات میں ہی ملزمان کی دھر پکڑ کے لیے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ ہفتہ کی صبح پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی۔ جانچ کے دوران پولیس نے گائے کاٹنے، اس کا گوشت کھانے، باقیات کو پھینکنے اور اس کام کے لیے پولی تھین فراہم کرنے والے اہم ملزمان کی شناخت کر لی ہے۔

اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے اب تک چار اہم ملزمان وسیم ولد یونس پٹیل، اکرم ولد رمضان پٹیل، اعظم چکی والا اور سلمان بھورو کو حراست میں لے لیا ہے، جن سے موگھٹ روڈ تھانے میں سختی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ وہیں، پولیس جانچ میں مندوڑہ مسجد کے امام عبدالحفیظ کا کردار بھی بیحد مشکوک پایا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد سے ہی امام گاوں چھوڑ کر فرار ہو گیا ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں لگاتار تلاش کر رہی ہیں۔

پڑوسی گاوں سہاڑا کے سرپنچ نمائندے ہیمنت چوہان نے بتایا کہ وہ فی الحال کیدارناتھ کے مذہبی سفر پر ہیں۔ جمعہ کی رات انہیں گاوں کے ہی کچھ لوگوں نے فون پر اطلاع دی تھی کہ بڑیا تلا گاوں میں عید کے تہوار کے پیش نظر مبینہ طور پر گائے کاٹی گئی ہے اور اب اس کے باقیات کو خاموشی سے باہر پھینکنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ ان پٹ ملتے ہی سہاڑا اور آس پاس کے گاوں کے ہندو نوجوان فوری طور پر بڑیا تلا کی طرف روانہ ہو گئے۔

موقع پر پہنچتے ہی انہوں نے دیکھا کہ ایک بائیک پر دو سے تین نوجوان کالے رنگ کی بڑی پولی تھین میں گائے کے سر، پیر اور دیگر حصے بھر کر لا رہے تھے۔ جیسے ہی ان نوجوانوں کی نظر اچانک آئے دیہی باشندوں پر پڑی، وہ اپنی بائیک وہیں چھوڑ کر کھیتوں کی طرف بھاگ گئے۔ اس کے بعد غصے میں آئے کارکنوں نے ملزمان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ فی الحال، گاوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کھنڈوا پولیس انتظامیہ پوری طرح مستعد ہے اور معاملے کی جانچ جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande