مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کو آئی بی افسر ظاہر کرکے دھمکانے کے الزام میں گجرات آپ کے ضلع صدر سمیت دو گرفتار
آنند/ وڈودرا، 30 مئی (ہ س)۔ گجرات میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے اندر مبینہ اندرونی تنازعہ کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ آنند سائبر کرائم پولیس نے وڈودرا اے اے پی کے صدر اشوک اوجھا اور آنند کے رہائشی نتن پٹیل کو انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افس
گجرات


آنند/ وڈودرا، 30 مئی (ہ س)۔ گجرات میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے اندر مبینہ اندرونی تنازعہ کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ آنند سائبر کرائم پولیس نے وڈودرا اے اے پی کے صدر اشوک اوجھا اور آنند کے رہائشی نتن پٹیل کو انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر ظاہر کر کے پارٹی کارکنوں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار کر لیاگیا ہے اور قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

کچھ عرصہ قبل آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ گجرات میں پارٹی کارکنوں کو موبائل نمبر سے آئی بی افسر ظاہر کرتے ہوئے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور پارٹی چھوڑنے یا سیاسی سرگرمیاں روکنے کے لیے دباو ڈالا جا رہا ہے۔

اسی دوران آنند آپ کے کارکن کیشو چوہان کو بھی اسی نمبر سے دھمکی آمیز کال موصول ہوئی۔ اس کے بعد اس نے آنند سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کی بنیاد پر، پولیس نے زیربحث موبائل نمبر کی تکنیکی جانچ شروع کی۔ اس جانچ میں پتہ چلا کہ موبائل نمبر آنند کے رہنے والے نتن پٹیل کے نام سے ایکٹو تھا۔ پولیس نے نتن پٹیل کو گرفتار کر کے پوچھ تاچھ کی جس سے اس معاملے میں بڑا انکشاف ہوا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران نتن پٹیل نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وڈودرا اے اے پی کے صدر اشوک اوجھا نے ان کے موبائل نمبر کا استعمال کیا تھا اور یہ کالیں ان کے کہنے پر کی گئی تھیں، وہ آئی بی افسر ظاہر کر رہے تھے۔

اس کے بعد پولس نے اشوک اوجھا کو گرفتار کر کے پوچھ تاچھ کی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ شکایت کنندہ کیشو چوہان کو ان کا سیاسی حریف سمجھا جاتا تھا۔ الزام ہے کہ یہ ساری سازش پارٹی کے اندر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے اور حریف پر دباو¿ ڈالنے کے لیے رچی گئی۔

اسی معاملے میں پارٹی کے ایک عہدیدار کا نام سامنے آیا ہے جس پر عام آدمی پارٹی اپنے مخالفین کو نشانہ بنا رہی تھی اور سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی بحثیں تیز ہو گئی ہیں۔

آنند سائبر کرائم پولیس فی الحال اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا اس مبینہ سازش میں دیگر افراد بھی شامل تھے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تفتیش جاری رکھتے ہوئے ڈیجیٹل شواہد اور کال ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande