
اورئی، 30 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش کے جالون ضلع کے کونچ شہر میں ہفتہ کو 81 روزہ گاویشٹھا یاترا کے دوران جیوتیرمٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے گائے کے تحفظ، سناتن دھرم اور عصری مسائل پر کئی اہم بیانات دئیے۔
انہوں نے کہا کہ ہندو سماج میں گائے کی عزت کی جاتی ہے اور اسے محض جانور کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ اسے ماں کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گائے کو خاص اہمیت حاصل ہے اور سناتن روایت میں اس کی پوجا کی جاتی ہے۔
شنکراچاریہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ گائے کو 14 سال بعد ذبح کرنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہیں بھی قابل قبول نہیں ہے اور ایسے بیانات دینے والے ہندو مذہب کی بنیادی روح اور سناتن روایت سے ناواقف ہیں۔
ایسے لوگوں کو نقلی ہندو کہتے ہوئے انہوں نے عوام سے اصلی اور نقلی ہندووں میں فرق کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ نقلی ہندو سماج کو اندر سے کمزور کر رہے ہیں، اس لیے ملک کے لوگوں کو چوکنا رہنے اور ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔
مذبح خانوں اور گائے ذبیحہ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ جب تک معصوم گائے ماری جاتی رہےسنت برادری کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی ظلم وناانصافی ہو گی، سنت برادری آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان سنتوں میں سے نہیں ہیں جو خود کو سیاست دانوں کے ساتھ تصویر کھنچوانے یا چندہ لینے تک محدود رکھتے ہیں۔
اپنے خلاف الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے، شنکراچاریہ اویمکتیشورانند نے کہا کہ عدالت نے انہیں جھوٹا پایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سچائی کبھی نہیں ڈرتی۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ان سے ان کے شنکراچاریہ کی حیثیت کا ثبوت مانگا تھا اور ضروری ثبوت فراہم کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے 12 گھنٹے کے اندر تمام ضروری ثبوت جمع کرادیے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی