عدالت نے پولیس اہلکار کی بحالی پر حکومت کی اپیل منظور کر لی۔
جموں, 30 مئی (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پاکستانی دہشت گرد کو پناہ فراہم کرنے کے الزام میں برطرف کیے گئے پولیس کانسٹیبل غلام محمد تانترے کی بحالی سے انکار کرتے ہوئے حکومت کی اپیل منظور کر لی ہے۔ عدالت نے سنگل بنچ کے اس فیصلے کو کا
Jk Highcurt


جموں, 30 مئی (ہ س)۔

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پاکستانی دہشت گرد کو پناہ فراہم کرنے کے الزام میں برطرف کیے گئے پولیس کانسٹیبل غلام محمد تانترے کی بحالی سے انکار کرتے ہوئے حکومت کی اپیل منظور کر لی ہے۔ عدالت نے سنگل بنچ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں تانترے کی برطرفی منسوخ کرتے ہوئے اسے ملازمت پر بحال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق غلام محمد تانترے 1991 میں محکمہ پولیس میں بھرتی ہوا تھا اور اپریل 2007 میں ایک سرکاری حکم نامے کے تحت اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ تانترے نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ محکمانہ انکوائری اور صفائی کا موقع دیے بغیر اسے ملازمت سے نہیں نکالا جا سکتا۔بعد ازاں 2011 میں سنگل بنچ نے اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے برطرفی کا حکم منسوخ کر دیا تھا، تاہم ڈویژن بنچ نے حکومت کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ریکارڈ کا جائزہ لیا اور پایا کہ تانترے پر 2004 میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دستیاب ریکارڈ اور تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تانترے ایک پاکستانی دہشت گرد کے رابطے میں تھا اور اس کے لیے مستقل ٹھکانے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مذکورہ مقام سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا تھا، جبکہ تانترے کے کرائے کے مکان کی تلاشی کے دوران دو ہینڈ گرینیڈ بھی ضبط کیے گئے تھے۔ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پولیس فورس کا رکن ہونے کے باوجود ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ملک کی سلامتی اور سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ میں موجود شواہد برطرفی کے حکم کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں، لہٰذا سنگل بنچ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے غلام محمد تانترے کی برطرفی سے متعلق سرکاری حکم نامہ بحال کر دیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande