
نئی دہلی، 30 مئی (ہ س)۔
مرکزی حکومت نے ہندوستانی ٹیکسٹائل سیکٹر میں کپاس کی دستیابی بڑھانے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے کپاس کی درآمد پر تمام کسٹم ڈیوٹی اور زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس (اے آئی ڈی سی) سے عارضی طور پر مکمل استثنیٰ کا اعلان کیا ہے۔
ہفتہ کو وزارت ٹیکسٹائل کی طرف سے جاری کردہ ایک باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وزارت خزانہ (محکمہ محصولات) کی طرف سے لاگو کی گئی یہ شق یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور 31 اکتوبر 2026 تک نافذ رہے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس عارضی چھوٹ کا بنیادی مقصد مقامی منڈی میں کپاس کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانا ہے تاکہ صنعت کو خام مال کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس اقدام سے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں پیداواری لاگت میں کمی کی توقع ہے، جس کے براہ راست فوائد مینوفیکچررز اور صارفین دونوں کو پہنچیں گے۔
اس فیصلے سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ریلیف ملنے کی امید ہے، کیونکہ یہ یونٹس ٹیکسٹائل سیکٹر کی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان پٹ لاگت میں کمی سے ان صنعتوں کی مسابقت میں بہتری آئے گی اور پیداواری استعداد میں اضافہ ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ