اے ایم یو نے عظیم اردو شاعر اور پدم شری یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا
علی گڑھ, 30 مئی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اپنے ممتاز سابق طالب علم، عظیم اردو شاعر اور پدم شری اعزاز یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ طویل علالت کے بعد 28 مئی 2026 کو بھوپال میں 91 برس کی عمر م
ڈاکٹر بشیر بدر


علی گڑھ, 30 مئی (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے اپنے ممتاز سابق طالب علم، عظیم اردو شاعر اور پدم شری اعزاز یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ طویل علالت کے بعد 28 مئی 2026 کو بھوپال میں 91 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

ڈاکٹر بشیر بدر کو جدید اردو شاعری کی عظیم ترین آوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایسا لازوال ادبی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جس نے نسلوں اور جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہو کر لاکھوں دلوں کو متاثر کیا۔ اپنی نہایت پُراثر غزلوں کے لیے معروف ڈاکٹر بشیر بدر نے روزمرہ کے جذبات اور بول چال کی زبان کو اردو شاعری کا حصہ بنا کر اسے وسیع حلقہ تک پہنچایا۔ ان کے یادگار اشعار، ‘‘لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں، تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں’’ اور ‘‘اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے’’ برصغیر کی تہذیبی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔

ڈاکٹر بشیر بدر کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے غیر معمولی اور عمر بھر کا تعلق رہا۔ انہوں نے یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور بعد ازاں شعبہ اردو میں لکچرر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعد میں وہ میرٹھ کالج سے وابستہ ہو گئے۔ یہ ایک منفرد اعزاز تھا کہ ان کی شاعری ان کے زمانۂ طالب علمی ہی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایم اے نصاب میں شامل کر لی گئی، جو کم عمری میں ان کی غیر معمولی ادبی صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔

ڈاکٹر بشیر بدر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے اردو کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور 1973 میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی میں وہ ایک باصلاحیت شاعر کے طور پر پہچانے جانے لگے تھے اور وقت کے ساتھ وہ معاصر اردو شاعری کی سب سے منفرد آوازوں میں شامل ہو گئے۔ ان کے متعدد اشعار ادبی کلاسیکی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور ہر عمر کے لوگوں میں یکساں طور پر پڑھے، سنے اور پسند کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر بشیر بدر علی گڑھ سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور اکثر اس بات کا ذکر کرتے تھے کہ یونیورسٹی کے علمی اور ادبی ماحول نے ان کی شعری حس کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ جب بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آتے ،طلبہ، محققین اور مداحوں کی بڑی تعداد ان سے ملاقات اور گفتگو کے لیے جمع ہوتی تھی، کیونکہ ان کا کلام جدید اردو تہذیب کا ایک اہم حصہ بن چکا تھا۔

سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائیگی کے سلسلے میں موجود اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنے درخشاں ترین گوہروں میں سے ایک کو کھو دیا ہے، جن کی شاعری نے دنیا بھر میں یونیورسٹی کا نام اور وقار بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر نے نہ صرف اپنی مادرِ علمی کے لیے بے شمار اعزازات حاصل کیے بلکہ اپنی ایسی شاعری کے ذریعے اردو ادب کی بے مثال خدمت انجام دی جس میں سادگی اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے اور جو آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتی رہے گی۔

قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر نے اپنی منفرد غزلوں اور اشعار کے ذریعے اردو ادب کو مالا مال کیا اور وہ ہمیشہ ایک عظیم شاعر اور ممتاز علیگ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے اپنی مادرِ علمی کا نام روشن کیا۔

چیئرمین، شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال اردو ادب کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے اور قارئین و طلبہ کی نسلیں ان کی شاعری سے ہمیشہ رہنمائی اور تحریک حاصل کرتی رہیں گی۔

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز ڈاکٹر بشیر بدر کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے، جن میں ‘‘آس’’، ‘‘آہٹ’’، ‘‘آمد’’ اور ‘‘کلیاتِ بشیر بدر’’ شامل ہیں۔

ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال اردو ادب کے ایک عہد کے خاتمہ کی علامت ہے، ان کے اشعار آنے والی نسلوں کے دلوں اور ذہنوں کو روشن کرتے رہیں گے۔ اے ایم یو برادری ان کی مغفرت، بلندئ درجات اور ابدی سکون کے لیے دعا گو ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande