شیوپور پولیس کی بڑی کامیابی، نوزائیدہ بچی کی خرید و فروخت کے نیٹ ورک کا پردہ فاش، 6 ملزمان گرفتار
لاوارث ملی معصوم بچی سے انسانی اسمگلنگ کے منظم ریکیٹ کا انکشاف بھوپال، 03 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش پولیس کی جانب سے انسانی اسمگلنگ، بچوں کے خلاف جرائم اور بچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خلاف مسلسل، حساس اور سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے م
کرائم کی علامتی تصویر


لاوارث ملی معصوم بچی سے انسانی اسمگلنگ کے منظم ریکیٹ کا انکشاف

بھوپال، 03 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش پولیس کی جانب سے انسانی اسمگلنگ، بچوں کے خلاف جرائم اور بچوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خلاف مسلسل، حساس اور سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں شیوپور پولیس نے ایک انتہائی سنگین اور حساس معاملے کا کامیاب انکشاف کرتے ہوئے بچوں کی خرید و فروخت سے منسلک منظم ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ معاملے میں اب تک 6 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ایک خاتون ملزم کی تلاش جاری ہے۔

پولیس ہیڈ کوارٹر بھوپال کی جانب سے اتوار کو معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ واقعہ تب سامنے آیا جب 18 اپریل کو تھانہ مانپور کے تحت نیشنل ہائی وے-552 پر سوئی کلاں کے قریب دانتردا بیریئر کے پاس تقریباً 2 سال کی ایک معصوم بچی لاوارث حالت میں ملی۔ بچی کے اکیلے ملنے اور حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر معاملے کو حساسیت سے لیتے ہوئے سخت تفتیش شروع کی۔ ابتدائی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ بچی کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا گیا ہے۔

شیوپور پولیس نے جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ ساتھ ہی تکنیکی شواہد، گاڑیوں کی آمد و رفت، مقامی اطلاعات اور ڈیجیٹل تجزیے کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ بچی کو سال 2024 میں پیدائش کے چند ہی دنوں بعد اس کی ماں سے الگ کر کے غیر قانونی طور پر مختلف افراد کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پہنچایا گیا تھا۔

تفتیش میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ نوزائیدہ بچی کو منیشا (دھار) اور ہیم لتا (کھرگون) کے ذریعے اندور میں بیوٹی پارلر مالکن نیتا جین تک پہنچایا گیا۔ اس کے بعد نیتا جین اور اس کے شوہر ویبھو جین نے راج گڑھ کے رہائشی آکاش اور اس کی بیوی کرتیکا کو 1 لاکھ روپے میں بچی سونپ دی۔ اس کے بعد تقریباً دو سال تک بچی ان کے پاس رہی۔ بعد میں وہی جوڑا بچی کو لے کر شیوپور کے علاقے میں سنسان مقام پر چھوڑ کر چلا گیا۔

پولیس نے سخت پوچھ گچھ، ڈیجیٹل ٹریل، بینکنگ لین دین، موبائل کال ریکارڈ اور مختلف اضلاع میں مربوط کارروائی کی بنیاد پر ملزمان کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد چھاپہ مار کر 6 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں بچی کو حاصل کرنے والا جوڑا، سودے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے افراد اور نیٹ ورک سے منسلک دیگر ارکان شامل ہیں۔

ایک خاتون ملزم، جس پر بچی کو اس کی ماں سے الگ کرانے اور ابتدائی رابطہ قائم کرنے کا شبہ ہے، فی الحال فرار ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بچی کی حقیقی شناخت قائم کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ بچی کو کن حالات میں پیدائش کے فوراً بعد ماں سے الگ کیا گیا۔ اس سلسلے میں نومبر 2024 کے آس پاس کے ڈیلیوری ریکارڈ، پیدائش کے رجسٹر اور ڈسچارج انٹریوں کو بھی کھنگالا جا رہا ہے۔ پولیس مختلف اسپتالوں، نجی کلینکس اور متعلقہ دستاویزات کی بھی جانچ کر رہی ہے۔

تفتیشی ایجنسیاں ملزمان کے بینک کھاتوں، آن لائن ادائیگی کے ذرائع، موبائل چیٹ اور کال ریکارڈ کا تجزیہ کر رہی ہیں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ نیٹ ورک کتنے عرصے سے سرگرم تھا اور کیا ان کی جانب سے پہلے بھی ایسے واقعات کو انجام دیا گیا ہے۔ تکنیکی اور میدانی سطح پر مربوط کارروائی کے ذریعے معاملے کی پرت در پرت جانچ کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande