اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 24 گھنٹے میں 50 حملے کیے، 41 کی موت، ابھی بھی ڈرون منڈلا رہے ہیں
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 24 گھنٹے میں 50 حملے کیے، 41 کی موت، ابھی بھی ڈرون منڈلا رہے ہیں بیروت، 03 مئی (ہ س)۔ اسرائیل نے 16 اپریل سے نافذ فوجی تعطل (سیز فائر) کے درمیان لبنان پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اکیلے جنوبی لبنان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسر
لبنان کے ہبوچ شہر میں دو مئی کو اسرائیل کے فضائی حملوں میں کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 24 گھنٹے میں 50 حملے کیے، 41 کی موت، ابھی بھی ڈرون منڈلا رہے ہیں

بیروت، 03 مئی (ہ س)۔ اسرائیل نے 16 اپریل سے نافذ فوجی تعطل (سیز فائر) کے درمیان لبنان پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اکیلے جنوبی لبنان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل نے 50 فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی حملوں میں اب تک 2,000 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس وقت پورے لبنان میں اسرائیلی ڈرون منڈلا رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ اسرائیل نے ہفتہ کی شام سے جنوبی لبنان کے بیشتر علاقوں میں بمباری کی ہے۔ اتوار کی صبح کئی شہروں میں زبردست دھماکے ہوئے ہیں۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ اس وقت جنوبی لبنان کے اوپر ڈرون اڑ رہے ہیں۔ بمباری میں شہرِ چیحین میں بھاری تباہی ہوئی ہے۔ التفاح ضلع کے الریحان شہر میں زوردار دھماکہ ہوا ہے۔ بگڑتے ہوئے حالات کے درمیان جنوبی لبنان کے لوگ بال بچوں کے ساتھ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں سے پورا جنوبی لبنان بمباری کا سامنا کر رہا ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان تصادم کی پرانی تاریخ ہے۔ دراصل 1948 میں لبنان نے دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی تھی۔ تب سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ امن معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ 1970 کی دہائی میں تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) نے جنوبی لبنان کو اپنا مرکز بنایا اور اسرائیل پر حملے شروع کیے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے 1978 میں ’آپریشن لیطانی‘ شروع کر کے جنوبی لبنان پر حملہ کیا۔

سال 1982 میں پہلی لبنان جنگ شروع ہوئی۔ اسرائیل نے تنظیمِ آزادیِ فلسطین کو مکمل طور پر کھدیڑنے کے لیے لبنان پر بڑا حملہ کیا۔ اسرائیل کی فوج بیروت تک پہنچ گئی۔ اسی دوران اسرائیل کی مخالفت میں ایران کے حامی گروپ حزب اللہ کا ظہور ہوا۔ 2000 میں اسرائیل نے جنوبی لبنان کے اپنے مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوج واپس بلا لی، لیکن شبعا فارمز جیسے متنازعہ علاقوں کو لے کر تناو برقرار رہا۔

سال 2006 میں حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کر لیا۔ اس واقعے کے بعد 34 دنوں تک شدید جنگ چلی۔ یہ جنگ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 کے بعد جنگ بندی کے ساتھ ختم ہوئی۔ اکتوبر 2023 میں حزب اللہ نے حماس کی حمایت میں شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کیے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے اور محدود زمینی مہم تیز کر دی۔

سال 2024 کے آخر میں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے۔ اس سال گزشتہ ماہ اپریل میں امریکی ثالثی کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان مختصر جنگ بندی نافذ ہوئی۔ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی کو اپنے وجود کے لیے خطرہ مانتا ہے اور اسے غیر مسلح کرنا چاہتا ہے۔ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande