آبنائے ہرمز پر سختی کی تیاری، ایران نیا قانون لائے گا
آبنائے ہرمز پر سختی کی تیاری، ایران نیا قانون لائے گا تہران، 03 مئی (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے نیا قانون لانے کی تیاری میں ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے اشارہ دیا ہے
آبنائے ہرمز کی علامتی تصویر


آبنائے ہرمز پر سختی کی تیاری، ایران نیا قانون لائے گا

تہران، 03 مئی (ہ س)۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے نیا قانون لانے کی تیاری میں ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے اشارہ دیا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت اسرائیل سے وابستہ جہازوں کے اس اہم سمندری راستے سے گزرنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز میں دشمن ممالک کے جہازوں کے لیے سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایسے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے جنگ سے متعلق نقصانات کی تلافی کرنی پڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ممالک کے جہازوں کے لیے بھی ایران سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔

حاجی بابائی کے مطابق، جنگ کے بعد علاقائی حالات بدل چکے ہیں اور اب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم قومی سلامتی اور اسٹریٹجک مفادات کو مدنظر رکھ کر اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر یہ قانون نافذ ہوتا ہے تو اس کا اثر عالمی تجارت، خاص طور پر تیل اور گیس کی سپلائی پر پڑ سکتا ہے۔ دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہونے والی اس آبنائے سے بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

تاہم، بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے کسی بھی اقدام کے حوالے سے پہلے ہی تشویش ظاہر کی جا چکی ہے۔ بہت سے ممالک کا خیال ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر یکطرفہ پابندیاں عالمی سمندری قوانین کے منافی ہو سکتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande