
ایران نے امریکہ کو نیا امن معاہدہ بھیجا، صدر ٹرمپ کو نہیں لگتا بات بنے گی
۔ قطر کے وزیر اعظم نے ایران کے وزیر خارجہ کو تصادم سے بچنے کے لیے عقلمندی سے کام لینے کی صلاح دی
واشنگٹن/دوہا/تہران، 03 مئی (ہ س)۔ ایران نے امریکہ کو نیا امن معاہدہ بھیجا ہے۔ یہ تجویز 14 نکاتی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ تجویز موصول ہو چکی ہے۔ انہوں نے ہفتہ کو پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر صحافیوں کو یہ معلومات دی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں ابھی بھی نہیں لگ رہا کہ ایران سے بات بن پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ امن معاہدے کا گہرائی سے جائزہ لیں گے۔ اس دوران امریکہ اور اسرائیل کے فروری کے آخر میں کیے گئے فوجی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحران مسلسل گہرا رہا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم نے ایران کے وزیر خارجہ کو سمجھداری سے کام لینے کی صلاح دی ہے۔
سی بی ایس نیوز، فاکس نیوز، الجزیرہ اور تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے ابھی ابھی تجویز بھیجی ہے۔ اس کے باوجود انہیں نہیں لگتا کہ ایران سمجھوتہ کر پائے گا۔ اس میں حملہ نہ کرنے کی ضمانت، ناکہ بندی ہٹانے اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے اسے ابھی دیکھا نہیں ہے۔ میں تجویز کا جائزہ لوں گا۔ اس کے بعد ہی ہمارے موقف کی میڈیا کو سرکاری معلومات دی جائے گی۔‘‘
ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت کے کچھ دیر بعد ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ ایران کا امن معاہدہ قابل قبول ہوگا۔ ایران نے گزشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہے، اس کے لیے اس نے ابھی پوری قیمت نہیں چکائی ہے۔ وہ اس تجویز کو ایئرفورس ون میں پڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ وہ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔‘‘ انہوں نے اعادہ کیا کہ اگر امریکہ ایران سے ہٹ بھی جائے تو تباہ شدہ ملک کو دوبارہ کھڑا ہونے میں 20 سال لگ جائیں گے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’مشکل یہ ہے کہ یہی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس وقت ایران کا متفقہ لیڈر کون ہے۔ کبھی کوئی آگے آ جاتا ہے تو کبھی کوئی۔ ایسی صورتحال میں اس بات کا پکا امکان ہے کہ امریکہ پھر سے کچھ ٹھکانوں پر فوجی حملے شروع کر سکتا ہے۔ اگر ایران نے کوئی بیجا حرکت کی تو اس کے لیے بہت برا ہوگا۔‘‘ ٹرمپ کے حملے کے تبصرے کے بعد ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ پھر سے جنگ کے لیے تیار ہے۔
دریں اثنا وائٹ ہاوس نے ہفتہ کو تصدیق کی کہ نک اسٹیورٹ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کام کر رہی سفارتی ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار کے دوران محکمہ خارجہ کے رکن رہے ہیں۔ وہ تیز طرار اور تجربہ کار پالیسی ماہر ہیں۔ وہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی باصلاحیت ٹیم کے اہم رکن ہیں۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز ایران کے سرکاری میڈیا آوٹ لیٹ تسنیم نیوز نے انکشاف کیا تھا کہ تہران نے امریکہ کو 14 نکاتی تجویز پیش کی ہے۔
اس فوجی کشیدگی سے فکر مند قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمن بن جاسم الثانی نے ہفتہ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کی ہے۔ یہ تب ہے جب اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد دونوں ممالک پر دباو بڑھانے کے لیے قطر کے نیچرل گیس پلانٹ اور حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، ’’وزیر اعظم نے پرامن طریقوں سے بحران کو حل کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ثالثی کی کوششوں کے لیے ریاستِ قطر کی مکمل حمایت کی تصدیق کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو ان کوششوں پر مثبت ردعمل دینا چاہیے، جس سے بات چیت میں پیش رفت کے لیے سازگار ماحول بنانے میں مدد ملے اور تناو کے پھر سے بڑھنے کا خطرہ کم ہو۔‘‘ وزیر اعظم الثانی نے کہا کہ ایران کو سوجھ بوجھ سے کام لینے کے ساتھ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن