
واشنگٹن،28مئی (ہ س)۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے جمعرات کی صبح ایران کے ساحلی شہر بندر عباس کے ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا ہے۔ سینٹکام کے مطابق نیا حملہ امریکہ نے اپنے دفاع کی خاطر ایک ’محتاط‘ در عمل کے تحت کیا ہے۔سینٹکام کے بیان میں گیا گیا کہ امریکی فوج نے بندر عباس میں ایران کے عسکری مقام کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں سے پانچواں ڈرون لانچ کیا جانے والا تھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہر کے مشرق میں تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، اور تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طویل مذاکرات جاری ہیں۔
اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں حملے کیے تھے اور ایران کے میزائل اڈوں سمیت ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جو امریکی فوج کے مطابق سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔یہ کارروائی ا±س وقت سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امن معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو امریکہ ’کام مکمل‘ کر دے گا۔صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاو¿س میں ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اب تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ موجودہ پیشرفت سے مطمئن نہیں، تاہم یا تو معاہدہ ہو گا یا پھر فوجی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
مذاکرات کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی بھی ہے، جسے ایران نے عملی طور پر بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر دباو¿ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی دعوی کیا ہے اس کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کو فضائی حملوں کے جواب میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔امریکی فوجی اڈے کے مقام کے حوالے سے تفصیلات تو نہیں بتائی گئیں تاہم کویت نے کہا ہے کہ جمعرات کی صبح اس کی جانب میزائل اور ڈرونز داغے گئے۔ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہلکار نے کہا کہ دشمن کی کمزوری کے باعث جنگ کا امکان کم ہے، لیکن اگر حملہ ہوا تو ایران کی فوج مکمل تیاری کے ساتھ جواب دے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan