
واشنگٹن،28مئی (ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پر رضامند ہو جائے گا۔امریکی ٹی وی چینل NBC کو دیے گئے انٹرویو میں، جو آج بدھ کو نشر ہوا، جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ اس بات پر انتہائی پرامیدہیں کہ ایران کسی بھی معاہدے کے حصے کے طور پر جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کرے گا۔
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اصل مشکل سوال یہ ہے کہ آیا ایران ایسی نگرانی اور تصدیقی نظام پر آمادہ ہوگا یا نہیں، جو امریکا کو یہ یقین دلا سکے کہ تہران مستقبل میں معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بدھ کو اپنی کابینہ کے ساتھ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے سے متعلق اہم مشاورت کر رہے ہیں۔دوسری جانب ایران کو خدشہ ہے کہ 2023 کی طرح ایک بار پھر اس کے منجمد اثاثوں اور مالی معاملات پر دباو ڈالا جا سکتا ہے، اسی لیے تہران اپنے منجمد فنڈز کے معاملے پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔
گزشتہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان اب بھی کئی اہم اور پیچیدہ معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ان میں ایران کے جوہری عزائم، لبنان میں اسرائیل کی جنگ، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی جیسے مسائل شامل ہیں۔زیادہ تر بالواسطہ مذاکرات کے کئی ہفتوں بعد دونوں فریقوں نے کہا ہے کہ ایک مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، جس کا مقصد جنگ روکنا اور مذاکرات کاروں کو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کی مہلت دینا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل بتایا کہ 14 نکاتی ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے تحت زیر بحث آنے والے کئی نکات پر نتائج حاصل کر لیے گئے ہیں۔ان کے مطابق مجموعی فریم ورک جنگ کے خاتمے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے پر مرکوز ہے، جبکہ اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی ضمانت دے گا۔دوسری جانب سینئر ایرانی سفارت کار حسین نوش آبادی نے کہا کہ ممکنہ ابتدائی معاہدے میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، بشمول لبنان، ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی، امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو کھولنا، ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا اور ایرانی تیل کی آزادانہ فروخت شامل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے ابتدائی معاہدے کے مسودے میں جوہری پروگرام سے متعلق کوئی پابندی یا عہد شامل نہیں، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی ''ایسنا'' نے نقل کیا۔اسماعیل بقائی اور حسین نوش آبادی دونوں کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے کا پہلا مرحلہ کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو اس کے بعد 60 روز کے دوران جوہری پروگرام پر بھی بات چیت اور مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔امریکا کا موقف ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan