
واشنگٹن،28مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اس وقت تباہی کے دہانے پر پہنچ کر مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ط?ران کو اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے کے بدلے پابندیوں میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، بلکہ تہران کو اس یورینیم سے دستبردار ہونا ہی پڑے گا لیکن اس کے بدلے پابندیاں نہیں ہٹائی جائیں گی۔پی بی ایس نیوز نیٹ ورک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بتایا کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کا معاملہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں بنیادی سرخ لکیروں میں سے ایک ہے۔ اسی تناظر میں وائٹ ہاو¿س نے اعلان کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سرخ لکیریں بالکل واضح کر دی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی تصدیق کی کہ تہران کے ساتھ مذاکرات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دیگر بیانات میں کہا کہ واشنگٹن اب تک جاری مذاکرات کے فریم ورک میں ایران کی طرف سے پیش کردہ تجاویز سے مطمئن نہیں ہے اور انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں فریق ابھی تک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ایران کو کئی معاملات میں ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دباو¿ کی موجودہ حکمت عملی کو ماضی میں وینزویلا میں اپنی انتظامیہ کی پالیسی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہم نے وینزویلا میں کیا تھا، وہی اب ایران میں کر رہے ہیں۔ ایران کی اندرونی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام کی جانب سے انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ ملک کھائی میں گر چکا ہے۔ یہ فیصلہ مہینوں کی وسیع پابندیوں اور نیٹ ورک کی تقریباً مکمل بندش کے بعد سامنے آیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت اس بات پر داو¿ لگا رہی ہے کہ میں مڈٹرم انتخابات کی وجہ سے جنگ ختم کرنا چاہتا ہوں، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کے فیصلے امریکی مفادات اور علاقائی سکیورٹی سے ہی جڑے رہیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلا رہے گا اور اس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور مناسب وقت پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے کام کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی بھی دوسرے عام ملک کی طرح برتاو¿ کرنا چاہیے اور واشنگٹن اس آبنائے کو سیاسی یا عسکری دباو¿ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم دوبارہ عسکری کارروائیوں کی طرف جائیں گے لیکن ہمیں ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ جانتی تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں اور مارکیٹیں متاثر ہوں گی، لیکن تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا سب سے بڑی ترجیح ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی جانب سے 12 روزہ جنگ کے دوران کیے گئے حملوں سے پہلے ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے صرف دو ہفتے کی دوری پر تھا اور ان آپریشنز نے ایرانی جوہری پروگرام کو بڑے پیمانے پر معطل کر دیا ہے۔جہاں تک ایران کے منجمد اثاثوں کا تعلق ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ان اثاثوں کو اپنے پاس برقرار رکھے گا جب تک کہ ہم انہیں اچھا برتاو¿ کرتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ اس وقت ایران پر سے پابندیاں نرم کرنے کی کوئی بات نہیں کر رہی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ تہران پر مسلسل معاشی دباو¿ کے تحت ایران کے منجمد فنڈز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ممکنہ معاہدے کے تحت افزودہ مواد کو بیرونی فریقوں کو منتقل کرنے کی تجاویز کے حوالے سے ہے۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے زور دیا کہ واشنگٹن کے لیے ایران سے نمٹنے میں سفارت کاری اب بھی بہترین انتخاب ہے اور انہوں نے تصدیق کی کہ گذشتہ مدت کے دوران مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کو آنے والے دنوں میں اس پیش رفت کی نوعیت اور حقیقی حجم کا اندازہ ہو جائے گا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اب بھی دیگر متبادل راستے اپنے پاس رکھتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے واشنگٹن کے اس موقف کو دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کہا کہ تہران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا۔
دوسری طرف امریکی وزیر جنگ نے تصدیق کی کہ عائد کردہ محاصرے اور اقدامات کے باعث ایران اب اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ بنانے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری محاصرے نے ایران کو کوئی بھی چیز اندر لانے یا باہر لے جانے سے روک دیا ہے۔ ان کا اشارہ تھا کہ بندرگاہیں تہران کے لیے بنیادی سپلائی لائن کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی معطلی سے ایرانی لاجسٹک اور معاشی صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔یہ بیانات واشنگٹن اور تہران کے مائبین جاری غیر مستقیم مذاکرات کے دوران سامنے آئے ہیں، جو خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے ڈالے جانے والے عسکری اور معاشی دباو¿ کے متوازی ہیں۔
یہ امریکی بیانات ایرانی سرکاری ٹیلی ویڑن کی جانب سے اس رپورٹ کے نشر ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے مائبین مذاکرات کے تحت ایک مفاہمت کا ابتدائی فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاو¿س نے فوری طور پر اس دستاویز کی صحت کی تردید کرتے ہوئے ایرانی رپورٹ کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا۔امریکی صدارتی دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے آفیشل اکاو¿نٹ کے ذریعے کہا کہ ایران کے کنٹرول میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ کی یہ رپورٹ درست نہیں ہے اور شائع شدہ مفاہمت کی یادداشت مکمل طور پر من گھڑت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کی نشریات پر یقین نہیں کرنا چاہیے، حقائق اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی دعووں کو جگہ دینے پر بعض امریکی ذرائع ابلاغ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan