سوریہ ونشی کے بے خوف انداز پر دھرو جریل نے کہا، اسے گیند باز سے کوئی فرق نہیں پڑتا
۔ 15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی کی دھماکہ خیز اننگز نے سن رائزرز حیدرآباد کا سفر ختم کیا
نوجوان بلے باز ویبھو سوریا ونشی


نیو چنڈی گڑھ، 28 مئی (ہ س)۔ راجستھان رائلز کے نوجوان بلے باز ویبھو سوریا ونشی نے بدھ کی رات انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے ایلیمینیٹر میں ایسی طوفانی بلے بازی کی، جس نے سن رائزرز حیدرآباد کی پوری مہم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ 15 سالہ بلے باز نے صرف 29 گیندوں میں 97 رن ٹھوک کر مقابلے کا رخ پوری طرح بدل دیا۔

پاور پلے میں ان کی دھماکہ خیز بلے بازی نے حیدرآباد کے گیند بازوں کو پوری طرح بے بس کر دیا۔ اس شاندار اننگز کے بعد راجستھان رائلز کے کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ بھی سوریا ونشی کے اعتماد اور ذہنیت کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں۔

راجستھان رائلز کے وکٹ کیپر بلے باز دھرو جریل نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا، ’’ویبھو کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زیادہ منصوبہ بندی نہیں کرتا۔ وہ خوب پریکٹس کرتا ہے اور خود پر پورا بھروسہ رکھتا ہے۔ اس کے دل میں کبھی یہ شک نہیں آتا کہ وہ یہ نہیں کر سکتا۔‘‘

جریل نے آگے بتایا کہ سوریا ونشی کا کھیل بیحد سادہ سوچ پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جب ہم اکیڈمی میں جاتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ گیند باز کو مت دیکھو، صرف گیند دیکھو۔ لیکن 18-17 سال کی عمر میں ہم اکثر گیند باز کا نام دیکھ کر دباو محسوس کرتے ہیں۔ ویبھو ایسا بالکل نہیں کرتا۔ وہ صرف گیند کو دیکھتا ہے۔‘‘

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’اس کا منتر صاف ہے- مجھے کسی بھی گیند باز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘

سن رائزرز حیدرآباد کے اسسٹنٹ کوچ جیمس فرینکلن نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم نے سوریا ونشی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔

فرینکلن نے کہا، ’’اس کے خلاف گیند بازی کے لیے بہت چھوٹا مارجن تھا۔ اچھی پچ پر ایسے بلے باز کو روکنا بیحد مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم نے شروعات میں فل لینتھ اور لیگ اسٹمپ لائن پر گیند بازی کرنے کی کوشش کی، لیکن اس نے جلدی ہی اسے سمجھ لیا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد نے فیلڈ سیٹنگ میں بھی کئی تجربات کیے، لیکن سوریا ونشی نے آسانی سے بڑے شاٹس لگائے۔

فرینکلن نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ کرکٹ میں پہلے کسی نے ایسا ٹیلنٹ دیکھا ہے۔ جو وہ اس عمر میں کر رہا ہے، وہ ناقابلِ یقین ہے۔ اگر اس کے کیریئر میں ابھی 25 برس باقی ہیں، تو یہ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے کہ وہ آگے کتنا بہتر ہوگا۔ ٹی-20 کرکٹ اب نڈر کھلاڑیوں کا کھیل بن چکا ہے۔‘‘

فرینکلن نے کہا کہ آج کی جین زی کا ٹی-20 کرکٹ کھیلنے کا طریقہ پوری طرح بدل چکا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’آج کے نوجوان کھلاڑی کھیل سے ڈرتے نہیں ہیں۔ وہ بچپن سے ٹی وی پر ٹی-20 کرکٹ دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ بلے باز زیادہ سے زیادہ چوکے-چھکے لگانے کی سوچتے ہیں اور گیند باز لگاتار نئی تبدیلیاں آزما رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’گزشتہ 5 برسوں میں ٹی-20 کرکٹ کی رفتار کافی بدل گئی ہے۔ خاص طور پر آئی پی ایل میں کھیل کی رفتار دنیا کی باقی ٹی-20 لیگز سے کہیں زیادہ تیز ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande