این ایچ اے آئی ٹی او ٹی، آئی این وی آئی ٹی ماڈل کے ذریعے شاہراہ کے اثاثوں سے رقم حاصل کرے گا
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) مالیاتی سال میں قومی شاہراہوں کے اثاثوں کو فیس آن ٹرانسفر (ٹی او ٹی) اور انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آئی این وی آئی ٹی) ماڈل کے تحت منیٹائز کرے گی۔ اس فہرست میں ہائی ویز انفرا انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر آئی
رقم


نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) مالیاتی سال میں قومی شاہراہوں کے اثاثوں کو فیس آن ٹرانسفر (ٹی او ٹی) اور انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آئی این وی آئی ٹی) ماڈل کے تحت منیٹائز کرے گی۔ اس فہرست میں ہائی ویز انفرا انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر آئی آئی ٹی) کے ذریعے تجویز کردہ اثاثے شامل نہیں ہوں گے۔سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی مرکزی وزارت نے کہا کہ یہ پہل حکومت کی اثاثوں کی منیٹائزیشن کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد آپریشنل نیشنل ہائی وے اثاثوں سے سرمایہ اکٹھا کرنا، نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دینا اور ہائی وے نیٹ ورک کی توسیع اور جدید کاری کو تیز کرنا ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں اور بولی لگانے والوں کو اپنے منصوبوں کی مو¿ثر طریقے سے منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملے گی۔وزارت نے کہا کہ شناخت شدہ اثاثوں کی کل لمبائی 1692.50 کلومیٹر ہے، جو نو ریاستوں-ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، راجستھان، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش، بہار اور مہاراشٹر میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان منصوبوں کو اقتصادی اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز میں انجام دیا جائے گا، جن میں کافی ٹریفک کی صلاحیت اور مضبوط رابطہ ہے۔ این ایچ اے آئی نے اپنی ویب سائٹ پر 17 منصوبوں کو درج کیا ہے۔منیٹائزیشن کا عمل ٹی او ٹی اور آئی این وی آئی ٹی فریم ورک کے تحت ایک شفاف اور منظم طریقہ کار کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ ماڈل طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے جدید مالیاتی طریقہ کار کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اثاثوں کے انتظام اور آپریشنل مہارت کو یقینی بنانے میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande