مشہور شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کا انتقال پرملال، طویل عرصے سے ڈیمنشیا بیماری میں مبتلا تھے
بھوپال، 28 مئی (ہ س)۔ مشہور شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کا جمعرات کی دوپہر تقریباً 12 بجے بھوپال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے 91 برس کی عمر میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر سے لاکھوں مداحوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر شاعر ڈاکٹر بشیر بدر
مشہور شاعر ڈاکٹر بشیر بدر انٹرنیٹ سے لی گئی تصویر


بھوپال، 28 مئی (ہ س)۔ مشہور شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کا جمعرات کی دوپہر تقریباً 12 بجے بھوپال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے 91 برس کی عمر میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر سے لاکھوں مداحوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کے چاہنے والے انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر بشیر بدر طویل عرصے سے ’ڈیمنشیا‘ نامی بیماری میں مبتلا تھے۔ ان کی یادداشت جا چکی تھی اور وہ لوگوں کو پہچان بھی نہیں پا رہے تھے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی جا رہی تھی۔ زندگی کی عام باتوں کو سلیس، سادہ اور سلیقے سے کہنے کا ہنر رکھنے والے اس بزرگ شاعر کے گھر تبھی سے خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ انہیں جدید غزل کا استاد مانا جاتا ہے۔ ادب کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے لیے انہیں ’پدم شری‘ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

اتر پردیش کے اجودھیا میں 15 فروری 1935 کو پیدا ہونے والے بشیر بدر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنی اعلیٰ تعلیم اور پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اس کے بعد 12 اگست 1974 کو انہوں نے میرٹھ کالج کے شعبۂ اردو میں بطور لکچرار شمولیت اختیار کی اور سال 1990 تک وہاں اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ میرٹھ سے آ کر بھوپال میں سکونت پذیر ہو گئے تھے۔ سال1974 سے 1990 کے درمیان کا دور ان کی زندگی کا سنہرا دور مانا جاتا ہے۔ اس دوران ان کی شاعری نے نئی بلندیوں کو چھوا اور وہ ملک و بیرونِ ملک میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہے۔

انہیں عام بول چال کی سلیس، رومانوی اور بیحد اثر انگیز زبان میں غزلیں لکھنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے صنفِ غزل میں کئی نئے اور ٹھیٹ الفاظ کو شامل کیا۔ انہوں نے غزل میں ایسے روزمرہ کے الفاظ کا خوبصورتی سے استعمال کیا، جنہیں روایتی اردو شاعری میں جگہ نہیں ملتی تھی۔ انہوں نے کئی مشہور کتابیں لکھیں، جن میں ’امکان‘، ’آہٹیں‘، ’کلیاتِ بشیر بدر‘ اور ’اجالے اپنی یادوں کے‘ شامل ہیں۔

بشیر بدر نے ملک کی تقسیم کے وقت بھی کئی اشعار لکھے، جو آج تک لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ شملہ معاہدے کے وقت اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو کو بشیر بدر کا تقسیم کے وقت کا لکھا ہوا ایک شعر سنایا تھا۔ وہ شعر یہ تھا:

> ’’دشمنی جم کے کرو لیکن یہ گنجائش رہے---جب کبھی ہم دوست بن جائیں تو شرمندہ نہ ہوں‘‘

بشیر بدر کے انتقال پر ہندی فلموں کے نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے ٹویٹ کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے پوسٹ کیا ہے کہ ’’آج ہماری زبان اردو تھوڑی اور غریب ہو گئی ہے۔ بشیر بدر جیسے ایک بیحد سُریلے شاعر ہمیشہ کے لیے ہماری محفل سے رخصت ہو گئے ہیں۔ یہ شاعر اور ان کی شاعری ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande