غزہ امن کونسل کے نمائندے جلدغزہ پٹی میں داخل ہوں گے: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
غزہ،28مئی (ہ س)۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ امن کونسل کے نمائندوں کی اگلے چند دنوں کے دوران پٹی میں داخلے کی توقع ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے حماس کے عسکری ونگ کے نئے کمانڈر محمد عودہ کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا
غزہ امن کونسل کے نمائندے جلدغزہ پٹی میں داخل ہوں گے: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ


غزہ،28مئی (ہ س)۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ امن کونسل کے نمائندوں کی اگلے چند دنوں کے دوران پٹی میں داخلے کی توقع ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے حماس کے عسکری ونگ کے نئے کمانڈر محمد عودہ کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیلی اندازوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ محمد عودہ کے قتل سے غزہ کی پٹی کے اندر عبوری مرحلے کے انتظامات کو تیز کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس میں امریکہ کی حمایت یافتہ غزہ امن کونسل کے منصوبے سے وابستہ شخصیات اور سول انتظامیہ کا داخلہ بھی شامل ہے۔

ادارے نے غزہ میں داخل ہونے والی ان شخصیات کی نوعیت یا ان علاقوں کی وضاحت نہیں کی جہاں سے یہ سرگرمیاں شروع ہوں گی اور نہ ہی ابھی تک کونسل یا امریکہ کی جانب سے اس کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے۔یہ پیش رفت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حماس پر دباو¿ بڑھانے کے درمیان سامنے آئی ہے تاکہ جنگ کے بعد کے انتظامات کے تحت حماس کو مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کے منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

گذشتہ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ حماس اور غزہ امن کونسل کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ حماس نے اپنے ہتھیاروں کو مکمل طور پر چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، جسے واشنگٹن اور تل ابیب پٹی میں دوبارہ تعمیر نو اور سیاسی منتقلی کے منصوبے کی کامیابی کے لیے ایک بنیادی شرط سمجھتے ہیں۔رپورٹس میں اسرائیلی حکام کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تل ابیب کا ماننا ہے کہ حماس کے اندر سرگرم عسکری قیادت کی مسلسل موجودگی غزہ میں نئی سول انتظامیہ کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

غزہ امن کونسل اس امریکی منصوبے کا حصہ ہے جو پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے سنہ 2025ءکے آخر میں شروع کیا گیا تھا، جس میں بین الاقوامی تعاون سے ایک عبوری انتظامیہ کی تشکیل شامل ہے جو سکیورٹی، دوبارہ تعمیر نو اور اگلے سیاسی مرحلے کی نگرانی کرے گی۔اس کونسل کی قیادت بین الاقوامی مندوب نکولے ملادی نوف کر رہے ہیں، جبکہ اس منصوبے میں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ انتظامیہ اور بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے قیام کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تعمیر نو کا پروگرام بھی شامل ہے۔ تاہم گذشتہ مہینوں کے دوران اس منصوبے پر عمل درآمد میں بڑی رکاوٹیں آئیں، جن میں سب سے نمایاں حماس کے ہتھیاروں پر اختلاف، مسلسل اسرائیلی حملے اور پٹی کے اندر سکیورٹی کی پیچیدگیاں ہیں۔

اسرائیل نے منگل کے روز محمد عودہ کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جنہوں نے مئی کے اسی مہینے میں شہید ہونے والے عزالدین الحداد کی جگہ محض چند دن قبل ہی حماس کے عسکری ونگ کی کمان سنبھالی تھی۔ تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ عودہ سات اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی میں شامل اہم ترین افراد میں سے ایک تھے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں وہ اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ شہید ہو گئے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل پے در پے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے حماس کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے غزہ کے اندر نئے سیاسی اور سکیورٹی انتظامات مسلط کیے جا سکیں۔دوسری جانب تحریک اب بھی پٹی سے اسرائیل کے مکمل انخلا سے قبل اپنے ہتھیار چھوڑنے سے انکار پر قائم ہے، جس کی وجہ سے سیاسی اور سکیورٹی مفاہمت کا مستقبل جاری مذاکرات کے نتائج اور غزہ کے اندر زمینی حقائق سے وابستہ نظر آتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande