
غزہ،28مئی (ہ س)۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے دو سرکردہ کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے۔تاہم اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس کارروائی میں شمالی غزہ بریگیڈ کے کمانڈر عز الدین الہیک اور غزہ بریگیڈ کے نائب کمانڈر عماد سلیم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس سے قبل باقاعدہ طور پر غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ کے چوتھے کمانڈر محمد عودہ کی ہلاکت کا اعلان کیا۔یسرائیل کاٹز نے ’ایکس‘ اکاو¿نٹ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ہم نے سات اکتوبر کے حملے کی قیادت کرنے والے ہر شخص کو ہلاک کرنے کا عہد کیا تھا اور ہم یہی کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب جہاں کہیں بھی ہوں ان کے لیے سزائے موت طے ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ سے رضاکارانہ ہجرت کے منصوبے پر مناسب وقت اور طریقے سے عمل درآمد کیا جائے گا۔اس کے علاوہ انہوں نے اصرار کیا کہ اسرائیل نے عہد کر رکھا ہے کہ حماس غزہ پر نہ تو سویلین اور نہ ہی عسکری طور پر حکومت کر سکے گی اور ایسا ہی ہو گا۔
دوسری طرف حماس اور تحریک کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے منگل کے روز غزہ کی پٹی پر ایک اسرائیلی حملے میں محمد عودہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع نے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ایک فضائی کارروائی کی جس میں محمد عودہ کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ عودہ نے سات اکتوبر کے حملے کے دوران حماس کے انٹیلیجنس ونگ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں، جس کے بعد انہیں لگ بھگ ایک ہفتہ قبل عز الدین الحداد کی جگہ عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جو دو ہفتے قبل غزہ پر ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو چکے تھے۔یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی ہیں جب اکتوبر سنہ 2025 سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہونے کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور اسرائیل حماس کی قیادت اور اس کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ چند ماہ قبل قائم کی گئی امن کونسل کی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں۔یاد رہے کہ حماس نے سات اکتوبر سنہ 2023 کو غزہ کے گرد و نواح میں اسرائیلی بستیوں اور عسکری اڈوں پر ایک بے مثال حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
جواب میں اسرائیل نے ایک شدید عسکری مہم شروع کی جس نے گنجان آباد فلسطینی علاقے کو تباہ کر دیا اور اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق 72 ہزار 803 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیل حماس کے کئی اعلیٰ رہنماو¿ں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کر چکا ہے، جن میں غزہ میں تحریک کے سربراہ یحییٰ السنوار بھی شامل ہیں جو 16 اکتوبر سنہ 2024 کو ہلاک ہوئے اور انہیں سات اکتوبر کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan