
تہران / واشنگٹن، 28 مئی (ہ س)۔
ایران اور امریکہ کے درمیان چل رہی امن معاہدے کی بات چیت کے درمیان آبنائے ہرمز کے آس پاس کشیدگی بڑھنے سے صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ خبر ہے کہ 28-27 مئی کی درمیانی رات اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے امریکہ کے ایک ٹینکر (جہاز) پر فائرنگ کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ٹینکر نے رڈار سسٹم بند کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں امریکہ نے ایران کے بندر عباس کے آس پاس فائرنگ کی۔ بندر عباس جنوبی ایران کا اہم بندرگاہی شہر ہے، جو آبنائے ہرمز پر واقع ہے۔
الجزیرہ، تسنیم، اے بی سی نیوز اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، بندر عباس کے پاس دھماکوں کے واقعے پر ایران نے ابھی تک کوئی سرکاری ردِعمل نہیں دیا۔ امریکی حکام نے بتایا کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کے لیے چیلنج ہے۔ حکام نے ان حملوں کو دفاعی قرار دیا۔ امریکی حکام نے کہا کہ حملے میں چار ایرانی ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔ بندر عباس کے بندرگاہی شہر میں ایک زیرِ زمین کنٹرول اسٹیشن پر حملہ کیا گیا، جہاں سے پانچواں ڈرون لانچ کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
یہ حملے جنوبی ایران پر اپنے دفاع میں کیے گئے حملوں کے ٹھیک دو دن بعد ہوئے، جب دو دن پہلے میزائل لانچ سائٹوں اور ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت ہرمز جنگ کے میدان جیسا بن گیا ہے۔ بندر عباس بندرگاہ کے پاس دھماکوں سے دہشت کا ماحول ہے۔ اس دوران اوول آفس میں لوٹنے کے بعد سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ کی میٹنگ کی ہے، جس میں ایران کے ساتھ بات چیت کا معاملہ سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کا کافی دباو ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ ایک بہترین معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا معاہدہ جو اطمینان بخش نہ ہو اور امریکی مفادات کو پورا نہ کرتا ہو، انہیں منظور نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے مل کر فوجی، سرکاری اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بناتے ہوئے زبردست حملے کیے۔ اس کے بعد دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ اپریل میں پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی ابتدائی بات چیت کسی امن معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ بعد میں ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھانے اور امریکی ناکہ بندی کو تب تک جاری رکھنے کا اعلان کیا، جب تک کہ بات چیت مکمل نہیں ہو جاتی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن