


112 عیدگاہوں میں ادا کی گئی نماز، ڈرون کیمروں سے نگرانی کی گئی
امیٹھی، 28 مئی (ہ س)۔
اتر پردیش کے ضلع امیٹھی میں عید الاضحی کی نماز اس سال مکمل امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ادا کی گئی۔ ضلع کی تمام 112 عیدگاہوں اور اہم مسجدوں میں صبح سے ہی نماز ادا کرنے کے لیے لوگوں کا بھاری ہجوم امڈ پڑا۔ نماز کے دوران لوگوں نے ملک میں امن و امان، ترقی اور خوشحالی کی دعا مانگی۔ نماز کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد دی اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ حساس مقامات پر پولیس کی کیو آر ٹی ٹیم کے ساتھ پی اے سی بھی تعینات کی گئی۔ نماز ختم ہونے کے بعد لیڈران اور عوامی نمائندوں نے نمازیوں سے گلے ملتے ہوئے عید الاضحی کی مبارکباد دی۔
عید الاضحی کے تہوار کو پرامن طریقے سے مکمل کرانے کے لیے ضلع انتظامیہ اور محکمہ پولیس پوری طرح الرٹ موڈ پر نظر آئے۔ پولیس چیف سرونن ٹی کی قیادت میں پورے ضلع میں سکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضلع کو 4 زون اور 17 سیکٹر میں تقسیم کر کے افسران اور پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی تھی۔ حساس اور مخلوط آبادی والے علاقوں میں خصوصی چوکسی برتی گئی۔ سکورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی مقامات پر ڈرون کیمروں سے نگرانی کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی تھانہ انچارجوں اور سرکل افسران (سی او) نے اپنے اپنے علاقوں میں پولیس فورس کے ساتھ مسلسل گشت کیا اور فلیگ مارچ نکال کر لوگوں میں سکورٹی اور اعتماد کا ماحول بنایا۔ اہم بازاروں، عیدگاہوں اور مسجدوں کے آس پاس اضافی پولیس فورس تعینات رہی۔
ضلع کے پولیس چیف سرونن ٹی نے بتایا کہ حکومت کی رہنما ہدایات کے مطابق کھلے میں قربانی اور عوامی جگہوں نیز سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر پوری طرح پابندی تھی۔ لوگوں نے بھی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر پوری ذمہ داری اور تعاون کے ساتھ عمل کیا۔ تہوار کے دوران ضلع میں کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ انتظامی افسران نے ضلع کے باشندوں، علمائے دین اور سماجی تنظیموں کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ باہمی بھائی چارہ اور سماجی ہم آہنگی ہی امیٹھی کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن