
حیدرآباد ، 27 مئی (ہ س) ۔ تلنگانہ کے ڈائرکٹرجنرل آف پولیس سی وی آنند کے روبرو سینئر ماؤسٹ روپوش رہنما پاسونوری نراہری عرف وشواناتھ یا سلائی دا نے بیوی اور سینئر ماؤسٹ رہنما ایم دانمّا عرف لتا؍پونم کے ہمراہ خودسپردگی کی ۔ پولیس نے اس پیش رفت کو تنظیم کے مشرقی خطہ کے لیے بڑاجھٹکہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اب تقریباً زوال کی سمت ہے۔ 64 سالہ پاسونوری نراہری، ہنمکنڈہ ضلع کے قاضی پیٹ منڈل کے سومیڑی ولیج سے ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈائرکٹر جنرل پولیس سی وی آنند نے پریس کانفرنس میں کہا کہ نراہری نے 1982 میں طالب علمی کے دوران ریڈیکل اسٹوڈنٹس یونین سے وابستگی کے بعد مومنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ دہائیوں میں وہ ایک دلم رکن سے شروع کرکے کمانڈر،ریجنل کمیٹی ممبر،اسٹیٹ کمیٹی ممبراوربالآخر2017 میں سینٹرل کمیٹی کے رکن تک پہنچ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نراہری نے چند ریاستوں جن میںچھتیس گڑھ، مہاراشٹر، بہاراورجھارکھنڈ شامل ہیں میں تنظیم کے تکنیکی آپریشنز کا ذمہ دار تھا ۔اس کی بیوی 55 سالہ میدرا دانمّاجو آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کی رہنے والی ہے نے1980 کی دہائی کے آخر میں تحریک میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں بہار،جھارکھنڈ اسپیشل ایریا کمیٹی کی اسٹیٹ کمیٹی کی رکن بن گئی۔تلنگانہ حکومت کی بحالی پالیسی کے تحت پولیس نے نراہری کو 25 لاکھ اور دانمّا کو20 لاکھ روپے کے ڈیمانڈ ڈرافٹ حوالے کئے۔ پولیس عہدیدار نے کہا کہ دونوں کو ریاستی پالیسی کے تحت اضافی بحالی مراعات بھی دی جائیں گی۔ ڈی جی پی سی وی آنند کے مطابق فی الحال صرف تین سرگرم روپوش کارکن جو ریاست تلنگانہ کے باشندہ نہیں، اس کے باہرسرگرم ہیں، جن میں مرکزی کمیٹی رکن مپلا لکشمن راؤ عرف گنپتی اور اسٹیٹ کمیٹی کے ارکان رتنا بائی عرف سوجاتا اور ورتھا شیکھرعرف منگتھو شامل ہیں۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق