آسارام کی عمر قید کی سزا برقرار، سرینڈر کرنا پڑے گا
جودھ پور، 27 مئی (ہ س)۔ راجستھان ہائی کورٹ کی جودھ پور بنچ نے اپنے ہی آشرم کی ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے میں آسارام کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اسے راحت دینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس ارون مونگا اور جسٹس یوگیندر کمار پر
آسارام کی عمر قید کی سزا برقرار، سرینڈر کرنا پڑے گا


جودھ پور، 27 مئی (ہ س)۔

راجستھان ہائی کورٹ کی جودھ پور بنچ نے اپنے ہی آشرم کی ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے میں آسارام کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اسے راحت دینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس ارون مونگا اور جسٹس یوگیندر کمار پروہت کی ڈویژن بنچ نے بدھ کو یہ فیصلہ سنایا۔ آسارام سمیت تین ملزمین کی اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے واضح کیا کہ نچلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے جہاں اسے اجتماعی عصمت دری کے الزام سے بری کردیا، وہیں دیگر سنگین الزامات میں اس کی سزا کو برقرار رکھا گیا ہے۔ عدالت نے آسارام کو فوری خودسپردگی کا حکم بھی دیا ہے۔

جنسی زیادتی کیس میں عمر قید کی سزا کے خلاف آسارام کی اپیل پر بدھ کو ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا۔ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے آسارام کو پوری طرح سے بری نہیں کیا۔ اس کی سزا کو منسوخ کرنے کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا ہے، لیکن اسے پوکسو ایکٹ، اجتماعی عصمت دری، اور تعزیرات ہند کی سازش سیکشن کے غیر ضمانتی جرائم میں قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ ڈویژن بنچ نے عصمت دری، پوکسو ایکٹ کی جنسی استحصال سیکشنز، اور جے جے ایکٹ کی دیگر شقوں سے متعلق نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا، یعنی سزائیں برقرار رہیں گی۔

ڈویژن بنچ نے آسارام کے سیوادار شرت چندر اور شلپی کو مکمل طور پر بری کر دیا ہے۔ متاثرہ کے وکیل پی سی سولنکی نے کہا کہ عدالت نے سزا پر روک نہیں لگائی ہے۔ عمر قید کی سزا برقرار ہے، لیکن مہلت دی گئی ہے۔ سولنکی نے کہا کہ وہ متاثرہ سے بات کریں گے اور بریت کے حکم کے خلاف اپیل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ اس فیصلے کے بعد آسارام کو اب جیل میں خودسپردگی کرنی پڑے گی۔ آسارام، شرت چندر اور شلپی کی طرف سے اپنی سزاو¿ں کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت 20 اپریل کو ختم ہوئی۔ آسارام اور ان کے پیروکاروں کی طرف سے سینئر وکیل دیودت کامت، دیپک میناریا اور یشپال سنگھ راجپوروہت نے دلائل دیے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل دیپک چودھری نے بحث کی اور متاثرہ کی طرف سے ایڈوکیٹ پی سی سولنکی نے بحث کی۔ تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے 20 اپریل 2026 کو فیصلہ محفوظ کر لیا۔

قابل ذکر ہے کہ 25 اپریل 2018 کو ایک خصوصی عدالت نے نابالغ کی عصمت دری معاملے میں آسارام کو ان کی باقی ماندہ زندگی کے لیے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ شریک ملزم شلپی اور شرت چندر کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے تینوں نے راجستھان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ آسارام فی الحال طبی بنیادوں پر دی گئی عبوری ضمانت پر جیل سے باہر ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ہائی کورٹ نے انہیں صحت کی وجوہات کی بنا پر راحت دی جس میں کئی بار توسیع کی جا چکی ہے۔ تاہم ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب انہیں دوبارہ خود سپردگی کرنا ہوگی ۔ سیکورٹی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے عدالت کے احاطے میں اضافی چوکسی برقرار رکھی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande