
نئی دہلی، 27 مئی (ہ س)۔ مسلم خواتین کے حقوق کو مضبوط کرنے کیلئے خواتین کے قومی کمیشن نے بدھ کو مسلم خواتین کے حقوق پر اپنی سفارشی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کی۔ یہ رپورٹ وزارت داخلہ، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت اور اقلیتی امور کی وزارت کو بھیج دی گئی ہے۔
کمیشن نے ایک ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کے قانونی، سماجی اور آئینی حقوق کو مستحکم کرنے کے لیے قومی سطح پر وسیع مشاورت کی گئی۔
خواتین کے قومی کمیشن کی اہم سفارشات میں مسلم پرسنل لا کی جامع کوڈیفیکیشن، شادیوں کی لازمی رجسٹریشن، بچوں کی شادی پر پابندی، معاشی تحفظ کو مضبوط بنانا، خواتین کے لیے جائیداد اور وراثت کے حقوق شامل ہیں۔
کمیشن نے پارو سسٹمجیسے استحصالی طریقوں پر فوری پابندی لگانے اوربحالی، شناخت اور متاثرہ خواتین کی ملازمت میں مدد کی بھی سفارش کی ہے۔
اس کے ساتھ کمیشن نے قانونی امداد کے نظام، ہیلپ لائن اور بیداری مہم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے، تاکہ مسلم خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جا سکے۔
کمیشن نے متعلقہ وزارتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سفارشات کو مو¿ثر طریقے سے نافذ کریں تاکہ پورے ملک میں مسلم خواتین کو انصاف، تحفظ اور سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنایا جاسکے۔
کمیشن نے بتایا کہ اس رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں یکم اگست 2025 کو نئی دہلی میں ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں اقلیتی امور کے مرکزی وزیر، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم، خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں، مذہبی اسکالرز اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔
میٹنگ میں مسلم خواتین سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں شادی، طلاق، نفقہ، بچوں کی تحویل اور جائیداد کے حقوق شامل ہیں۔ کمیشن نے نوٹ کیا کہ آئینی تحفظات اور حالیہ قانونی اصلاحات کے باوجود ابھی بھی قانونی آگاہی بڑھانے اور انصاف تک آسان رسائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی