سماجوادی پارٹی کی رکنِ اسمبلی مہاراجی پرجاپتی کی رہائش گاہ پر ہنگامہ، کئی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج
امیٹھی، 27 مئی (ہ س)۔ سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر منگل کی رات امیٹھی قصبے کے سلطان پور روڈ پر واقع آواس وکاس کالونی میں سابق کابینی وزیر گایتری پرساد پرجاپتی اور سماجوادی پارٹی کی موجودہ مقامی رکنِ اسمبلی مہاراجی پرجاپتی کی رہائش گاہ پر زبردست ہنگام
رکنِ اسمبلی کی رہائش گاہ پر لگی بھیڑ


رکنِ اسمبلی کی رہائش گاہ پر پہنچی پولیس


میڈیا کو بیان دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی کے بیٹے انوراگ پرجاپتی


امیٹھی، 27 مئی (ہ س)۔ سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر منگل کی رات امیٹھی قصبے کے سلطان پور روڈ پر واقع آواس وکاس کالونی میں سابق کابینی وزیر گایتری پرساد پرجاپتی اور سماجوادی پارٹی کی موجودہ مقامی رکنِ اسمبلی مہاراجی پرجاپتی کی رہائش گاہ پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ الزام ہے کہ اسکارپیو سمیت کئی گاڑیوں سے پہنچے دو درجن سے زائد لوگوں نے رکنِ اسمبلی اور سابق وزیر گایتری پرساد پرجاپتی کے خلاف نازیبا کلمات کہے۔ رکنِ اسمبلی کے بیٹے کی تحریر پر پولیس مقدمہ درج کر کے ضروری قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

موصولہ معلومات کے مطابق پرجاپتی خاندان کا قریبی شخص دھیریج پال، جو ابھی کچھ ہی دن پہلے جیل سے رہا ہو کر باہر آیا ہے، اس کی طرف سے سماجوادی پارٹی کے کارکن شیر بہادر یادو کے خلاف فیس بک پر ذاتی طور پر نازیبا تبصرہ کیا گیا تھا۔ جس کو لے کر شیر بہادر یادو اور ان کے تمام حامیوں نے رکنِ اسمبلی کی رہائش گاہ پہنچ کر گالی گلوج کی۔ مخالفت کرنے پر رہائش گاہ پر موجود ملازمین کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور موبائل فون چھیننے کا بھی الزام ہے۔ واقعے کے وقت رکنِ اسمبلی اور ان کے بیٹے گھر پر موجود نہیں تھے۔ اطلاع ملنے پر رکنِ اسمبلی کے چھوٹے بیٹے انوراگ پرجاپتی حامیوں کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے اور پولیس کو مطلع کیا۔

انوراگ پرجاپتی نے کوتوالی میں تحریر دے کر سماج وادی پارٹی لیڈر شیر بہادر یادو، برجیش یادو، جے سنگھ پرتاپ، بلرام یادو، انوراگ یادو، منو پال، وپن یادو، راجیش یادو اور شبھم یادو سمیت کئی نامعلوم لوگوں پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ تحریر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان عوامی پروگراموں اور انٹرنیٹ میڈیا پر مسلسل رکنِ اسمبلی کے خاندان کے خلاف نازیبا تبصرے کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ واقعے کے دوران جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ رکنِ اسمبلی کے بیٹے نے وزیراعلیٰ، ایس پی سربراہ اکھلیش یادو، ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سے معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس واقعے کے سلسلے میں سرکل آفیسر منوج مشرا نے بدھ کے روز بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس فورس کو جائے وقوع پر روانہ کیا گیا تھا۔ پولیس کے پہنچنے تک شرپسند عناصر وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔ متاثرہ فریق کی تحریر پر 11 نامزد سمیت دو درجن دیگر نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی فٹیج کھنگال رہی ہے اور گرفتاری کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande