لوک آیکت کی بڑی کارروائی، سرکاری کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر 50 ہزار کی رشوت لیتے ہوئے گرفتار
لوک آیکت کی بڑی کارروائی، سرکاری کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر 50 ہزار کی رشوت لیتے ہوئے گرفتار کھرگون، 27 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائی کے درمیان لوک آیکت پولیس نے بدھ کے روز کھرگون ضلع کے منڈلیشور میں سرکاری کالج کے ایک اس
सरकारी कॉलेज के सहायक प्राध्यापक 50 हजार की रिश्वत लेते गिरफ्तार


لوک آیکت کی بڑی کارروائی، سرکاری کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر 50 ہزار کی رشوت لیتے ہوئے گرفتار

کھرگون، 27 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائی کے درمیان لوک آیکت پولیس نے بدھ کے روز کھرگون ضلع کے منڈلیشور میں سرکاری کالج کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو 50 ہزار روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد تعلیمی محکمے میں ہلچل مچ گئی۔ ملزم پر ایک خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹنگ کروانے کے نام پر 4 لاکھ روپے رشوت مانگنے کا الزام ہے۔

لوک آیکت اندور کے مطابق، مانپور کے رہنے والے منوج واسکیل نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ(لوک آیکت) اندور کے سامنے شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ ان کی بیوی ارمیلا واسکیل کا انتخاب پی ایس سی کے ذریعے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ہوا تھا۔ ان کی پوسٹنگ پہلے دلودا (مندسور) میں ہوئی تھی، جسے دھار کالج میں کروانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ملزم اسسٹنٹ پروفیسر آتمارام سولنکی مسلسل رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا۔

شکایت کے مطابق ملزم نے پوسٹنگ گھر کے نزدیک کروانے کے نام پر 4 لاکھ روپے مانگے، جس میں سے وہ پہلے ہی 1 لاکھ روپے لے چکا تھا اور باقی رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔ جس کے بعد لوک آیکت ٹیم کی جانب سے شکایت کی تصدیق کرائی گئی، جس میں الزامات درست پائے گئے۔ اس کے بعد بدھ کے روز ملزم اور درخواست گزار کے درمیان بات چیت کے مطابق 50 ہزار روپے کی قسط دینے کا وقت طے ہوا۔

ملزم نے درخواست گزار کو دھامنود بائی پاس پر واقع مدھوبن ڈھابے پر بلایا۔ یہاں پہلے سے تعینات لوک آیکت کی ٹریپ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم آتمارام سولنکی کو 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ملزم کے خلاف انسدادِ بدعنوانی ترمیمی ایکٹ-2018 کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں لوک آیکت کے ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ سنیل تالان، قائم مقام ہیڈ کانسٹیبل وویک مشرا سمیت کچھ دیگر افسران و ملازمین شامل رہے۔

کھرگون، 27 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائی کے درمیان لوک آیکت پولیس نے بدھ کے روز کھرگون ضلع کے منڈلیشور میں سرکاری کالج کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو 50 ہزار روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد تعلیمی محکمے میں ہلچل مچ گئی۔ ملزم پر ایک خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹنگ کروانے کے نام پر 4 لاکھ روپے رشوت مانگنے کا الزام ہے۔

لوک آیکت اندور کے مطابق، مانپور کے رہنے والے منوج واسکیل نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ(لوک آیکت) اندور کے سامنے شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ ان کی بیوی ارمیلا واسکیل کا انتخاب پی ایس سی کے ذریعے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ہوا تھا۔ ان کی پوسٹنگ پہلے دلودا (مندسور) میں ہوئی تھی، جسے دھار کالج میں کروانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ملزم اسسٹنٹ پروفیسر آتمارام سولنکی مسلسل رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا۔

شکایت کے مطابق ملزم نے پوسٹنگ گھر کے نزدیک کروانے کے نام پر 4 لاکھ روپے مانگے، جس میں سے وہ پہلے ہی 1 لاکھ روپے لے چکا تھا اور باقی رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔ جس کے بعد لوک آیکت ٹیم کی جانب سے شکایت کی تصدیق کرائی گئی، جس میں الزامات درست پائے گئے۔ اس کے بعد بدھ کے روز ملزم اور درخواست گزار کے درمیان بات چیت کے مطابق 50 ہزار روپے کی قسط دینے کا وقت طے ہوا۔

ملزم نے درخواست گزار کو دھامنود بائی پاس پر واقع مدھوبن ڈھابے پر بلایا۔ یہاں پہلے سے تعینات لوک آیکت کی ٹریپ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم آتمارام سولنکی کو 50 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ملزم کے خلاف انسدادِ بدعنوانی ترمیمی ایکٹ-2018 کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں لوک آیکت کے ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ سنیل تالان، قائم مقام ہیڈ کانسٹیبل وویک مشرا سمیت کچھ دیگر افسران و ملازمین شامل رہے۔

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande