
نئی دہلی، 27 مئی (ہ س)۔ ملک کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی برسی کے موقع پر بدھ کے روز کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں نے شانتی ون پہنچ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس دوران رہنماؤں نے نہرو کو جدید بھارت کا معمار قرار دیتے ہوئے اُن کی دور اندیش سوچ، جمہوری اقدار اور سائنسی فکر کو یاد کیا۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ پنڈت نہرو نے مضبوط جمہوری اداروں اور جدید بھارت کی تعمیر کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ نہرو کی قائم کردہ صنعتی، سائنسی اور تعلیمی اداروں نے ملک کو نئی سمت دی اور اُن کی میراث آج بھی ملک کی رہنمائی کر رہی ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ آزادی، جمہوریت، سیکولرزم اور سائنسی سوچ کے تئیں نہرو کی وابستگی آج بھی بھارت کی روح میں زندہ ہے۔
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے پنڈت نہرو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ایک جامع، ہم آہنگ اور ترقی پسند بھارت کی تعمیر کے لیے وقف کر دی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ آزادی، جمہوری اصولوں، آئینی حقوق، سماجی انصاف اور سائنسی فکر پر مبنی نہرو کی قیادت ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا رکن پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ کسی بھی کام کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ معاشرے کے کتنے لوگوں کے آنسو پونچھے گئے اور کتنے لوگوں کی زندگی میں خوشحالی آئی۔ انہوں نے کہا کہ نہرو کا ماننا تھا کہ ملک اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب کروڑوں لوگ خوشحال ہوں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے تعلیم، صحت، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت اور زراعت سے متعلق بڑے ادارے قائم کیے، جن کی بدولت بھارت مضبوط ہوا۔
کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا رکن کے سی وینوگوپال نے کہا کہ نہرو نے نوآبادیاتی دور سے تباہ حال بھارت کو ایک مضبوط اور جدید جمہوری قوم کے طور پر قائم کیا۔ وہیں کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا رکن ششی تھرور نے کہا کہ پنڈت نہرو کی زندگی جمہوریت، سماجی انصاف اور سیکولر کثرتیت کے لیے وقف تھی اور اُن کی میراث آج بھی ملک کو سمت دے رہی ہے۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو کا کردار صرف آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم کے طور پر ہی نہیں بلکہ جدید بھارت کے معمار کے طور پر بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ رہنماؤں نے انہیں “ہند کے جواہر” قرار دیتے ہوئے سچائی، اتحاد اور امن کی اقدار کی علامت بتایا۔
واضح رہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو کا انتقال 27 مئی 1964 کو ہوا تھا۔ انہیں پنچ سالہ منصوبوں، سرکاری شعبے کی ترقی، سائنسی اداروں کے قیام اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد