خصوصی انٹرویو... بھو-بھارتی اور اندرمّا ہاؤسنگ اسکیم ہماری کامیابی کی داستان بیان کرتی ہے : تلنگانہ کے وزیر ر یونیو سرینواس ریڈی
اندرانی سرکارنئی دہلی/حیدرآباد، 26 مئی (ہ س)۔ ہندوستھان سماچار کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، تلنگانہ کے ریونیو اور ہاؤسنگ کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے انتخابی وعدوں پر عمل آوری، بھوبھارتی اصلاحات، ریونیو ڈیجیٹائزیشن، دشمن کی جائیدادوں کے ت
ponguleti-bhubharathi-ts


اندرانی سرکارنئی دہلی/حیدرآباد، 26 مئی (ہ س)۔ ہندوستھان سماچار کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، تلنگانہ کے ریونیو اور ہاؤسنگ کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے انتخابی وعدوں پر عمل آوری، بھوبھارتی اصلاحات، ریونیو ڈیجیٹائزیشن، دشمن کی جائیدادوں کے تحفظ، اندرما ہاؤسنگ، سرمایہ کاری، روزگار، حیدرآباد کی ترقی،ہوائی اڈے کی ترقی ، کسانوں کی فلاح و بہبود اورتلنگانہ کے سیاسی نقطہ نظر کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ گفتگو کی جھلکیاں پیش ہیں۔

اہم نکات

۔بھو -بھارتی ایکٹ ملک کے لیے ایک رہنما ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے

۔ تلنگانہ میں 10ہزار کروڑ روپے کی دشمن جائیدادوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے

۔اندرمّا ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکانات کی تعمیر میں تیزی

۔ تلنگانہ کی توجہ سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور روزگارکے مواقع پیدا پر ہے

۔ریاست میں بی آر ایس کا باب ختم ہو چکاہےانتخابی وعدوں پر عملدرآمدسوال: تلنگانہ میں اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں آپ نے اپنے انتخابی وعدوں پر کس حد تک عمل درآمد کیا ہے؟

جواب: ہم نے انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی کی طرف سے کئے گئے تقریباً 80 فیصد وعدوں پر عمل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، کئی اسکیمیں شروع کی گئیں جن کا اس وقت واضح طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی (جو اس وقت ریاستی کانگریس کے صدر تھے) اور نائب وزیر اعلی بھٹی وکرمارکا کے ذریعہ پدیاتراوں کے دوران کئے گئے وعدوں کو اقتدار میں آنے کے فوراً بعد نافذ کیا گیا۔ ان اقدامات میں سب سے اہم ’دھرنی ‘پورٹل کو ختم کرنا تھا - جس سے لاکھوں کسانوں اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سماج کے تمام طبقوں کی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پر اس کی جگہ بھو بھارتی ایکٹ نافذ کیا گیا۔ آج یہ قانون ملک کی دیگر ریاستوں کے لیے رہنما بنتاجا رہا ہے۔

بھو بھارتی اور ریونیو ڈیجیٹائزیشن

سوال: کیا آپ بھوبھارتی پورٹل اور اس سے متعلقہ خدمات کے بارے میں تفصیل سے بتا سکتے ہیں؟

جواب: ' کسانوں کو شفاف اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اراضی، سروے اور رجسٹریشن کے محکموں کومربوط کر کے بھو -بھارتی پورٹل تیار کیا گیا ہے۔ اس پورٹل کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ کسانوں کو زمین سے متعلق خدمات کے لیے سروس سینٹرکے چکر نہ لگانےپڑیں اور وہ گھر بیٹھےخدمات سے استفادہ کرسکیں۔ بھو- بھارتی ایکٹ کے مطابق زرعی اراضی کے رجسٹریشن کے دوران سروے کا نقشہ منسلک کرنا خریدار اور فروخت کنندگا ن ، دونوں کی سہولت کے لیے لازمی بنایا جا رہا ہے۔ ہر سروے کے نقشے (ایل پی ایم) کو ایک منفرد نمبر تفویض کیا جا رہا ہے اور ہر سروے نمبر کو آدھار کی طرز پر ’بھودھار‘ نمبر تفویض کیا جا رہا ہے۔ اسے مرحلہ وار ریاست بھر میں نافذ کیا جائے گا۔ اس کے لئے پانچ ڈویژنوں میں پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جا چکا ہے۔

عوامی املاک کی حفاظت: دشمن جائیدادوں پر خصوصی توجہ

سوال: دشمن کی جائیدادیں اور متنازعہ سرکاری اراضی موضوع بحث بنتی رہی ہے۔ حکومت اس سمت میں کیا قدم اٹھا رہی ہے؟

جواب: تلنگانہ میں دشمن کی جائیدادوں کے تحفظ اور ان پر تجاوزات کی روک تھام محکمہ محصولات ترجیحات میں سے ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں تقریباً 10ہزار کروڑ روپے کی دشمن جائیدادیں موجود ہیں۔ ان جائیدادوں کا ایک جامع اراضی سروے کرنے اور متعلقہ ریکارڈ کو منظم طریقے سے ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت حکام کو دی گئی ہیں۔ ریاست کے محکمہ محصولات نے ان جائیدادوں کی شناخت اور تحفظ کے عمل کو تیز کیا ہے اور اس کے لئے مرکزی حکومت کے تحت کام کرنے والی ایجنسی، کسٹوڈین آف اینیمی پراپرٹی فار انڈیا (سی ای پی آئی ) کے اہلکاروں کے ساتھ تال میل کیا جا رہا ہے ۔ ان اقدامات کا مقصد اراضی کے بندوبست کو مضبوط بنانا، شفافیت کو بڑھانا اور عوامی املاک کے موثر تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

فلاحی اسکیمیں اور اپوزیشن کی تنقید

سوال: اپوزیشن کا الزام ہے کہ انتخابی وعدوں پر پوری طرح عمل نہیں ہوا ہے؟

جواب: پچھلی بی آر ایس حکومت نے تلنگانہ کو ہمارے حوالے کیا، جو کبھی فاضل فنڈز والی ریاست تھی، لیکن اب 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض کے بوجھ میں دبی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں، ہم فی الحال صرف سود کی ادائیگی پر ہر ماہ تقریباً 6,500 کروڑ روپے خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہم مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی پروگراموں کو عوام تک پہنچا رہے ہیں۔ ملک میں کرناٹک کے بعد خواتین کے لیے مفت بس سفر کی اسکیم کو نافذ کرنے والی دوسری کانگریس حکومت تلنگانہ کی ہے۔ ہمارے بعد آندھرا پردیش، تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں نے بھی اس اسکیم کو نافذ کیا۔

اندرمّا ہاؤسنگ: مکان اوراعتماد کی تعمیر

سوال: آپ اکثر جن اہم اسکیموں کا تذکرہ کرتے ہیں، ان میں سے سب سے زیادہ عوامی پذیرائی کس کو ملی؟

جواب: فی الحال، مختلف ریاستی محکمے تقریباً 100 نئی اسکیمیں نافذ کررہے ہیں۔ ان میں اندرمّا ہاؤسنگ اسکیم پورے ملک کے لیے ایک ماڈل بن کر ابھری ہے۔ ہم ایسے غریب خاندانوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جن کے پاس گھر نہیں ہے اور جن کے پاس پہلے سے زمین دستیاب ہے، انہیں ₹5 لاکھ کی مالی امداد فراہم کر کے پکا گھر بنانے کے قابل بنا رہے ہیں۔ اس قسم کی کوئی دوسری اسکیم فی الحال ملک میں دستیاب نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی مالی مدد کے بغیر بھی ہم ریاستی سطح پر فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔ پہلے سال ہی 3.60 لاکھ مکانات کی منظوری دی گئی اور فنڈز جاری کیے گئے۔ اس محکمے کے وزیر کی حیثیت سے مجھے فخر ہے کہ صرف ایک سال کے اندر 2 لاکھ خاندان گرہ پرویش کر چکے ہیں۔ ہم اگلے تین مرحلوں میں مزید مکانات کی منظوری دیں گے۔ یہ اسکیم ایک مسلسل عمل کے طور پر جاری رہے گی۔ وزیر اعلیٰ 2 جون کو آصف آباد ضلع میں اندرمّا ہاؤسنگ اسکیم کے دوسرے مرحلے کا آغاز کریں گے۔

اندرمّا آواس کی کامیابی کا راز

سوال: اندرمّا ہاؤسنگ اسکیم کے نفاذ اور کامیابی کے پیچھے کون سےعناصر کارفرما ہیں؟

جواب: اس اسکیم کے نفاذ کے دوران بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے ، جو دل وذہن میں گھر جاتے تھے۔ برسوں تک کرایے کے گھروں میں رہنے والی خواتین کی آنکھوں میں اپنے گھر کے لئے نظر آنے والی خوشی ہمارے لئے سب بڑی ترغیب بنی۔ مجھے آج بھی ایک بزرگ خاتون یاد ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ’’ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مرنے سے پہلے میرے نام پر بھی ایک گھر ہو گا۔‘‘ وزیر اعلی ریونت ریڈی کی تصویر اپنے ہاتھوں میں لے کر مستحقین کے گھروں میں داخل ہونے کا منظر اب بھی یادہے۔ ہمیں یہ دیکھ کر بھی خوشی ہوئی کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس اسکیم میں خصوصی دلچسپی دکھائی۔ حال ہی میں میرے پالیرے انتخابی حلقے میں منعقدہ پرجا دربار میں، موصول ہونے والی درخواستوں میں سے 52 فیصد اندرمّا ہاؤسنگ کے لیے تھیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسکیم لوگوں کے لیے کتنی مفید اور ضروری ہے۔ بی آر ایس حکومت کے دس سال کے دوران غریبوں کی رہائش کی ضروریات کو نظر انداز کیا گیا اور اب لوگ اس عوامی حکومت سے اپنے گھر کا خواب پورا کرنے کی توقع کر رہے ہیں۔

تلنگانہ رائزنگ: سرمایہ کاری اور اقتصادی توسیع

سوال: کیا ملکی اورغیر ملکی توجہ مبذول کرنے کے لیے منعقد کیے گئے تلنگانہ رائزنگ پروگرام سے کوئی ٹھوس فائدہ ہوا؟

جواب: تلنگانہ کو اگلی اقتصادی طاقت کے طور پر ترقی دینے کے مقصد سے 8اور 9دسمبر کو حیدرآباد کے بھارت فیوچر سٹی میں ’تلنگانہ رائزنگ گلوبل سمٹ -2025‘کا کامیاب انعقاد کیا گیا تھا۔ یہ اجلاس مختلف شعبوں میں عالمی سطح کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ اجلاس کے دوران 100 سے زائد مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں سے تقریباً 5.75 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی دلچسپی سامنے آئی۔ اس کے نتیجے میں نجی شعبے کے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔

ملازمت اور انتظامی اصلاحات

سوال: بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار اور ریونیو میں اصلاحات کے اقدامات کس طرح آگے بڑھ رہے ہیں؟

جواب: تلنگانہ میں حکومت بنانے کے بعد، ہم نے تقرری کا عمل دوبارہ شروع کیا، جو گزشتہ دس برسوں سے تقریباً تعطل کا شکار تھا۔ اب تک تقریباً 70 ہزار لوگوں کو روزگار فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ، ہم نے ریونیو خدمات کو گاؤں کی سطح تک بڑھا کر اپنا انتخابی وعدہ پورا کیا ہے۔ ریاست کے 10,954 ریونیو گاؤں کو کلسٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ولیج ایڈمنسٹریٹو آفیسرز (وی اے او) کو مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح 5,520 لائسنس یافتہ سرویئر بھی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

حیدرآباد، فیوچر سٹی اور ایئرپورٹ کی توسیع

سوال: ملک کے بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں سے ایک حیدرآباد کی ترقی اور علاقائی بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے لیے آپ کے کون سے پروجیکٹ ہیں؟

جواب: حیدرآباد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دینے کے پروجیکٹ بنائے گئے ہیں۔ میٹرو ریل نیٹ ورک کو وسعت دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ کنٹونمنٹ ایریا کو جی ایچ ایم سی میں ضم کرنے کا دیرینہ عوامی مطالبہ پورا ہوگیا ہے۔ حکومت نے 30,000 ایکڑ رقبے پر فیوچر سٹی کے نام سے ایک نیا شہر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترقیاتی حکمت عملی کے تحت ریاست کو تین خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

آؤٹر رنگ روڈ کے اندر کے علاقے کو '’کور اربن تلنگانہ‘، آؤٹر رنگ روڈ اور مجوزہ ریجنل رنگ روڈ کے درمیان کا علاقہ '’اربن تلنگانہ‘ کے طور پر اور ریجنل رنگ روڈ سے باہر کے علاقوں کو’رورل تلنگانہ‘ کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ ریاست کے مختلف علاقوں میں نئے ہوائی اڈے قائم کیے جائیں گے جن میں وارنگل (ممنور)، عادل آباد، پیڈا پلی (بسنت نگر)/راماگنڈم، کوٹھا گوڈیم اور دیگر شامل ہیں۔

کسانوں کی بہبود اور زرعی فروغ

سوال: تلنگانہ میں فی الحال کون سی کسان ترغیبی اسکیمیں نافذ کی جارہی ہیں؟ گزشتہ ڈھائی برسوں میں کتنا خرچ ہوا؟

جواب: رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت، اہل کسانوں کو ہر سال 12,000 روپے فی ایکڑ زرعی سرمایہ کاری کی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں خریف کی فصلوں کے لیے 6,000 روپے اور ربیع کی فصلوں کے لیے 6,000 روپے شامل ہیں۔ کسانوں کو ان کے قرض کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے، 12 دسمبر 2018 سے 9 دسمبر 2023 کے درمیان لیے گئے ₹ 2 لاکھ تک کے قلیل مدتی فصل کے قرضوں کی ایک بار معافی شروع کی گئی ہے۔ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے علاوہ، کسانوں کے ذریعہ تیار کردہ عمدہ دھان پر 500 روپے فی کوئنٹل کا بونس فراہم کیا جا رہا ہے۔

حادثاتی موت کی صورت میں کسی بھی کسان کے خاندان کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے، ₹5 لاکھ کا مفت بیمہ جاری رکھا گیا ہے، جس کا پورا پریمیم حکومت برداشت کرے گی۔ رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت اب تک ₹ 18,000 کروڑ سے زیادہ براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں جمع کیے جا چکے ہیں۔ موجودہ مالی سال میں 70 لاکھ کسانوں کے لیے مرحلہ وار انداز میں 9,000 کروڑ روپے جاری کیے جا رہے ہیں۔

فصل قرض معافی اسکیم کے تحت، حکومت نے بینکوں کو 18000-20000 کروڑ روپے تین قسطوں میں جاری کیے ہیں۔ حکومت نے دوبرسوں میں زرعی فلاحی اسکیموں پر 1 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ زراعت کے شعبے کو تبدیل کرنے اور تلنگانہ کو اناج کی پیداوار میں قائد بنانے کے لیے، محکمہ زراعت کو سالانہ 24,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا بجٹ مل رہا ہے۔ رعیتوبیما یوجنا کے تحت، 2025-26 مالی سال میں 42 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو انشورنس تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

قومی انتخابی مہم کا تجربہ

سوال: آپ نے بہار، کیرالہ اور دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ آپ کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب: میں نے کانگریس ہائی کمان کی ہدایت کے مطابق متعلقہ ریاستوں میں انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ بہار میں، مجھے تین اسمبلی حلقوں کے لیے مشاہد مقرر کیا گیا تھا اور ہم نے ان میں سے ایک پر کامیابی حاصل کی تھی۔ کیرالہ میں ہمارے وزیر اعلی ریونت ریڈی اور کئی وزراء نے مہم میں حصہ لیا۔ مجھے خوشی ہے کہ جن دس حلقوں میں میں نے اپنے لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی تھی، ان میں کامیابی ملی۔ ہمیں پہلے ہی یقین تھا کہ کانگریس کیرالہ میں کامیاب ہوگی۔ راہل گاندھی کا اثر وہاں صاف نظر آرہا تھا۔ وائناڈ میں جیتنے کے بعد انہوں نے کانگریس کو عوام کے اور قریب پہنچایا۔

2029 کے لیے تلنگانہ کا سیاسی منظر نامہ

سوال: آپ 2029 کے انتخابات میں تلنگانہ میں کانگریس کے امکانات کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: ہمیں اس بار ریاست کی 119 اسمبلی سیٹوں میں سے 100 سے زیادہ جیتنے کا یقین ہے۔ عوام مکمل طور پر ہمارے ساتھ ہے۔ ہمارا مقصد صرف عوامی بہبود ہے اور ہم بنا کسی اسکرپشن کے حکومت چلا رہے ہیں۔ یہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

سوال: کن وجوہات کی بنا پر آپ اقتدار میں واپسی کے لیے پراعتماد ہیں؟

جواب: وزیر اعلی ریونت ریڈی کی قیادت میں ہماری حکومت کے ذریعہ نافذ کئے گئے ترقیاتی اور فلاحی پروگرام ہماری جیت کو یقینی بنائیں گے۔ عوام نے ہمیں لوک سبھا انتخابات، دو اسمبلی ضمنی انتخابات اور جب سے ہم اقتدار میں آئے ہیں، پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ کانگریس نے کنٹونمنٹ اور جوبلی ہلز جیسے علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی، جو پہلے بی آر ایس کے پاس تھے۔ یہ نتائج مستقبل میں دہرائے جائیں گے۔ تلنگانہ میں بی آر ایس کا دور ختم ہو چکا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande