
جے پور، 27مئی (ہ س)۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کیا۔ جے پور میں پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ اگر ملک کو مضبوط اور محفوظ رکھنا ہے تو اسے پنڈت نہرو کی خارجہ پالیسی پر واپس آنا ہوگا۔
گہلوت نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا اور برسوں تک جیل میں جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ جس بنیادی ڈھانچے پر آج ملک کھڑا ہے اس کی بنیاد نہرو نے رکھی تھی۔ گہلوت نے کہا کہ آزادی کے بعد بڑے ڈیموں، اسٹیل فیکٹریوں، ایمس، آئی آئی ٹیز اور تعلیم و صحت سے متعلق اداروں کا قیام نہرو کی دور اندیش سوچ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کسانوں، صنعتوں اور بجلی کی پیداوار کے شعبوں میں بھی تاریخی کام کیا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنڈت نہرو کے بعد ملک میں کئی وزیر اعظم آئے لیکن کسی نے ان کی خارجہ پالیسی کو تبدیل نہیں کیا۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ بننے پر واجپائی نے یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں نہرو کی خارجہ پالیسی جاری رہے گی۔گہلوت نے کہا کہ ملک موجودہ وقت میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں فکر مند ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن پہلے کی طرح مضبوط نہیں ہے۔
اشوک گہلوت نے کہا کہ حالیہ پیش رفت میں ہندوستان کو عالمی حمایت نہیں مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور ترکی جیسے ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے جبکہ بھارت کے پرانے دوستوں کے ساتھ بھی تعلقات پہلے کی طرح مضبوط نہیں ہو رہے۔امریکہ اور روس کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے ہندوستان اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ عالمی دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ ہندوستان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں دیے جانے والے بیانات ملک کے وقار کے مطابق نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں عزت نفس اور آزادی کو برقرار رکھنا چاہیے۔سابق وزیر اعلی نے مرکزی حکومت پر جمہوریت کو کمزور کرنے اور لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سماجی اور سیاسی صورتحال نازک ہوتی جا رہی ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
گہلوت نے کہا کہ آج کے دور میں خارجہ پالیسی صرف بین الاقوامی تعلقات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا براہ راست اثر ملکی معیشت، سماجی صورتحال اور سیاسی صورتحال پر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا انٹرنیٹ اور عالمی نیٹ ورک سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ گہلوت نے کہا کہ اگر ہندوستان کو واقعی وشو گرو بننا ہے تو اسے پنڈت نہرو کی متوازن اور آزاد خارجہ پالیسی کی طرف لوٹنا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan