
ترواننت پورم، 27 مئی (ہ س) ۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کے روز کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ (سی ایم آر ایل) اور ایکسالوجک کے درمیان مالی لین دین سے منسلک منی لانڈرنگ کے معاملہ میں کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پنارائی وجین، ان کی بیٹی وینا وجین اور ان کے داماد پی اے محمد ریاضسے منسلک متعدد احاطوں پر بیک وقت چھاپے مارے۔ یہ کارروائی کیرالہ ہائی کورٹ کی جانب سے ای ڈی کی تحقیقات اور سمن کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو خارج کرنے کے ٹھیک ایک دن بعد کی گئی۔
ای ڈی کے اہلکاروں نے ترواننت پورم میں بیکری جنکشن کے قریب واقع وجین کی کرائے کی رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ کنور میں ان کے آبائی گھر کی تلاشی لی۔ مزید برآں، سی ایم آر ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر سسی دھرن کارتھا کی رہائش گاہ، وجین کے داماد ریاض کے کوزی کوڈ گھر اور ان کی بیٹی وینا وجین کی ملکیت والی کمپنی ایکسالوجک سولوشنز کے بنگلورو دفتر پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ ذرائع نے بتایاکہ ای ڈی نے کیرالہ اور کرناٹک میں کل 12 مقامات پر تلاشی کارروائیاں کیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، جب ای ڈی کی ٹیمیں سخت سیکورٹی کے درمیان آج صبح ترواننت پورم کی رہائش گاہ پر پہنچیں، تو پنارائی وجین، ان کی بیٹی وینا وجین اور خاندان کے دیگر افراد گھر کے اندر موجود تھے۔ عہدیداروں نے مالیاتی لین دین سے متعلق مختلف دستاویزات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور الیکٹرانک آلات کی جانچ کی۔ تاہم، ای ڈی نے ابھی تک سرکاری طور پر ضبط شدہ مواد یا پوچھ گچھ کی نوعیت کے بارے میں تفصیلی معلومات کا اشتراک نہیں کیا ہے۔
یہ کیس سی ایم آر ایل اور ایکسالوجک سولوشنز کے درمیان مالی لین دین سے منسلک منی لانڈرنگ کے الزامات سے متعلق ہے۔ انکم ٹیکس عبوری سیٹلمنٹ بورڈ کی ایک رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ سی ایم آر ایل نے کنسلٹنسی خدمات کی آڑ میں ایکسالوجک سلوشنز کو تقریباً 1.72 کروڑ ادا کیے، حالانکہ، مبینہ طور پر، ایسی کوئی خدمات درحقیقت پیش نہیں کی گئیں۔ اس مبینہ ادائیگی کو ماہانہ ادائیگی قرار دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے بدعنوانی اور اثر و رسوخ کے غلط استعمال کے الزامات لگائے ہیں۔
ای ڈی کی تحقیقات اور سمن کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے، سی ایم آر ایل اور اس کے عہدیداروں نے استدلال کیا کہ چونکہ وہ پہلے ہی انکم ٹیکس سیٹلمنٹ بورڈ سے راحت حاصل کر چکے ہیں، اس لیے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت مزید کوئی بھی کارروائی بلاجواز ہوگی۔ درخواست گزاروں نے مزید استدلال کیا کہ ای ڈی کے پاس سمن جاری کرنے یا تحقیقات کو آگے بڑھانے کا قانونی اختیار نہیں ہے۔
ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے، کیرالہ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ انکم ٹیکس کے معاملات میں دی گئی راحت ای ڈی کو منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات سے نہیں روکتی ہے۔ جسٹس ٹی آر روی نے کہا کہ تحقیقات فی الحال اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس موقع پر سمن کو چیلنج کرنا قبل از وقت ہوگا۔ عدالت نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے مطابق، ای ڈی کو پی ایم ایل اے کے تحت تحقیقات شروع کرنے یا آگے بڑھانے کے لیے علیحدہ ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہائی کورٹ کے حکم کے ایک دن بعد، ای ڈی نے وسیع تلاشی کارروائیاں شروع کیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایجنسی اس کیس کے مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کے ممکنہ پہلوو¿ں کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پیشرفت آنے والے دنوں میں کیرالہ کی سیاست میں ایک بڑے مسئلے کے طور پر ابھر سکتی ہے، کیونکہ یہ معاملہ ریاست کے ممتاز سیاسی خاندان سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ بائیں بازو کے جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کے رہنماو¿ں نے اس اقدام کو سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا ہے۔ وہیں، بی جے پی لیڈروں نے دعویٰ کیاہے کہ ای ڈی قانون کے مطابق کام کر رہی ہے اور اس کیس سے متعلق سچائی کو سامنے لانا چاہیے۔ فی الحال، سبھی کی نظریں ای ڈی کے چھاپوں اور دستاویزات کی جانچ کے بعد مستقبل کی کارروائی پر لگی ہوئی ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملہ میں کئی اہم انکشافات سامنے آسکتے ہیں اور ملوث افراد سے بھی تفصیلی پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی