وزیر اعلی شبھیندو کے حکم کے بعد دو دنوں میں سینکڑوں بنگلہ دیشی پکڑے گئے، سرحد پر ڈیٹنشن سینٹر میں رکھے گئے
کولکاتا، 27 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت کی جانب سے مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف ’ ’ڈیٹیکٹ-ڈیلیٹ-ڈیپورٹ ‘‘پالیسی نافذ کئے جانے کے بعد، شمالی 24 پرگنہ ضلع کے بشیرہاٹ سب ڈویژن، سوروپ نگر میں حکیم پور چیک پوسٹ پرلوگوں کی بھیڑ مسلسل بڑ
Detaination-center-border-Bang


کولکاتا، 27 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال حکومت کی جانب سے مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف ’ ’ڈیٹیکٹ-ڈیلیٹ-ڈیپورٹ ‘‘پالیسی نافذ کئے جانے کے بعد، شمالی 24 پرگنہ ضلع کے بشیرہاٹ سب ڈویژن، سوروپ نگر میں حکیم پور چیک پوسٹ پرلوگوں کی بھیڑ مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش واپسی کی امید میں گزشتہ دو دنوں میں سینکڑوں لوگ سرحدی علاقے میں پہنچ چکے ہیں۔ تاہم پولیس اور بارڈر سیکورٹی فورس نے ابھی تک کسی کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ انتظامیہ ان لوگوں کو ایک عارضی کیمپ میں رکھ کر ان کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔

انتظامی ذرائع کے مطابق سوروپ نگر تھانہ علاقہ کے چارگھاٹ اور میڈیا علاقوں میں دو عارضی کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔ سرحد پر آنے والے لوگوں کو فی الحال انہی کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ بنگلہ دیشی شہری ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ہندوستانی شناختی کارڈ کے ساتھ یہاں پہنچے ہیں۔ اس لئے یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں کہ آیا وہ واقعی غیر قانونی طور پر ہندوستان میں رہ رہے تھے یا نہیں ۔ تمام دستاویزات کی تصدیق کے بعد انہیں بنگلہ دیش کے بارڈر گارڈز کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بارڈر سیکورٹی فورس ہر فرد کی معلومات کی اپنی سطح پر تصدیق بھی کرے گی۔ اس کے بعد بنگلہ دیش بارڈر گارڈ فورس کے ساتھ مل کر مزید کارروائی مکمل کی جائے گی۔ ریاستی حکومت کی ہدایات کے مطابق، ان افراد کو بنگلہ دیش بھیجنے کا عمل تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی شروع کیا جائے گا۔

سرحدی علاقے میں پہنچنے والوں میں کئی خاندان شامل ہیں جو برسوں پہلے غیر قانونی راستوں سے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش کے یشور سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ وہ اور اس کا خاندان تقریباً چار سال قبل دلالوں کی مدد سے ہندوستان پہنچے تھے۔ ان کے مطابق، دلالوں نے ان کی سرحد پار کرنے میں مدد کرنے کے لیے سات ہزار روپے فی شخص وصول کئے تھے۔ یہ خاندان شمالی 24 پرگنہ کے درگا نگر علاقے میں کرائے کے مکان میں رہ رہا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خاندان نے ہندوستان میں کوئی سرکاری شناختی کارڈ حاصل نہیں کیا۔ خاندان کے افراد مستری اور ہیلپرکے طور پر کام کرکے اپنی روزی کماتے تھے۔ حال ہی میں حکومت کی بڑھتی ہوئی سختی اور کارروائی کی وجہ سے انہوں نے بنگلہ دیش واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ فی الحال، پورا خاندان حکیم پور سرحدی علاقے میں انتظار کر رہا ہے۔

انتظامی ذرائع کے مطابق کیمپوں میں رکھے گئے ہر فرد کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی ہندوستانی شہری کو غلطی سے یا غلط شناخت کے تحت بنگلہ دیش نہ بھیجا جائے۔ لہٰذا، ہر شخص کی شناخت، دستاویزات اور پس منظر کو متعدد سطحوں پر چیک کیا جا رہا ہے۔

اس دوران اشوک نگر-ہابرا علاقے میں پکڑے گئے 54 دراندازوں کو میڈیا کیمپ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور ان کے کاغذات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ سرحدی علاقے میں سرگرمیوں میں اضافے کے باعث پولیس، انتظامیہ اور بارڈر سیکورٹی فورس کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ حکیم پور چیک پوسٹ اور آس پاس کے علاقوں میں کسی بھی قسم کی گڑبڑ یا غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کی نئی پالیسی کے بعد سرحدی علاقوں میں انتظامی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں حکیم پور میں مزید لوگوں کی آمد متوقع ہے۔ اس لیے سرحدی علاقوں میں عارضی کیمپوں کی تعداد بڑھانے اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیشبھیندو ادھیکاری نے اعلان کیا ہے کہ مغربی بنگال میں پکڑے گئے غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ انہیں ریاستی حکومت کے قائم کردہ ہولڈنگ سینٹرز میں رکھا جائے گا اور انہیں براہ راست بی ایس ایف کے حوالے کیا جائے گا۔ وہاں سے انہیں ان کے آبائی ممالک میں ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande