
وزارت دفاع نے نجی شعبے کی تین کمپنیوں کو 'تجاویز کی درخواست' بھیجی ہے
نئی دہلی، آخر کار، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) ہندوستان میں تیار کیے جانے والے مقامی پانچویں نسل کے ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایرکرافٹ (اے ایم سی اے) کی تیاری سے باہرہوگئی ہے۔ وزارت دفاع نے بدھ کو شارٹ لسٹ کی گئی تین کمپنیوں کو 'تجاویز کی درخواست' بھیجی ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت تقریبا 15 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے 5 پروٹو ٹائپ تیار کیے جائیں گے۔ یہ ایک جڑواں انجن والا ریڈار سے بچنے والا لڑاکا طیارہ ہوگا جو سپر کروز کی صلاحیت کے ساتھ جدید ترین سینسر سے لیس ہوگا۔
پہلی بار پروٹو ٹائپ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) اور ایروناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی (اے ڈی اے) کے اشتراک سے نجی شعبے کے ساتھ شراکت میں بنائے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز، لارسن اینڈ ٹوبرو-بھارت الیکٹرانکس اور بھارت فورج-بی ای ایم ایل کو ٹینڈر بھیجے گئے ہیں۔ ہوائی جہاز کی ترقی اور پرواز کی جانچ کے لیے تقریبا 2,000 کروڑ روپے کی لاگت سے آندھرا پردیش کے پٹا پرتھی میں ایک کور انٹیگریشن اور فلائٹ ٹیسٹنگ کی جانچ کا مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ پہلے پروٹو ٹائپ کے رول آوٹ کا منصوبہ 2026 کے آخر یا 2027 کے اوائل میں بنایا گیا ہے، اس کے بعد 2028 تک پہلی پرواز اور 2034سے2035 کے ذریعے آئی اے ایف میں شامل کیا جائے گا۔
ڈی آر ڈی او کے مطابق ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایرکرافٹ (اے ایم سی اے) ایک سنگل سیٹ اور جڑواں انجن والا طیارہ ہوگا جو ہندوستانی فضائیہ اور ہندوستانی بحریہ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ پانچویں نسل کے اسٹیلتھ، ملٹی رول، ایئر سپیریئرٹی فائٹر میں چھٹی نسل کی طاق ٹیکنالوجیز بھی شامل ہوں گی۔ طیارے کو ایروناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی (اے ڈی اے) نے ڈیزائن کیا ہے، جو ڈی آر ڈی او کے تحت تشکیل دی گئی ہوا بازی کے ڈیزائن اور ترقیاتی ایجنسی ہے۔ اے ایم سی اے کا مارک-1 ورژن 5.5 ، پانچویں نسل کی ٹیکنالوجیزسے لیس ہوگا اور مارک-2 میں چھٹی نسل کی ٹیکنالوجی میں اپ گریڈ ہوں گے۔
کیا خاص ہوگا؟
پانچویں نسل کا مقامی لڑاکا طیارہ مختلف قسم کے کردار ادا کرے گا، جن میں فضائی برتری، زمینی حملہ، بمباری، مداخلت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ گزشتہ نسل کے لڑاکا طیاروں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے متعدد زمینی اور سمندری دفاع کے ساتھ سپر کروز، اسٹیلتھ، ایڈوانسڈ اے ای ایس اے ریڈار، سپر مونویبلٹی، ڈیٹا فیوژن اور ایڈوانسڈ ایوی اونکس کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ فضائیہ میں ایچ اے ایل تیجس، سخوئی-30 ایم کے آئی اور رافیل اور بحریہ کے ایچ اے ایل نیول تیجس اور مگ-29 کی جگہ لے گا۔ مقامی لڑاکا طیارے کا ہندوستانی فضائیہ میں جیگوار، میراج 2000 اور مگ 27 کا جانشین بننے کا ارادہ ہے۔ یہ ایچ اے ایل ماروت اور ایچ اے ایل تیجس کے بعد ہندوستانی نژاد تیسرا سپر سونک جیٹ طیارہ ہوگا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی