
ممبئی ، 27 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور سناتن دھرم کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز پوسٹ وائرل ہونے کے بعد پالگھر میں ماحول کشیدہ ہوگیا۔ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے کارکنوں نے مبینہ ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس معاملے کو لے کر پالگھر پولیس اسٹیشن میں ہنگامہ آرائی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، جہاں بڑی تعداد میں تنظیمی عہدیداران اور کارکن موجود رہے۔اطلاعات کے مطابق اُمرولی مشرق میں واقع پارسناتھ نگری کے رہائشی ہری شنکر شیش نارائن جیسوال پر الزام ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کا مبینہ قابلِ اعتراض ویڈیو تیار کرکے سوشل میڈیا پر جاری کیا۔ ویڈیو کے ساتھ کی گئی تبصروں پر بجرنگ دل اور وی ایچ پی کارکنوں میں شدید ناراضگی پھیل گئی۔یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم نے گاؤ ماتا کی تصاویر کے ساتھ اشتعال انگیز تبصرے پوسٹ کرکے سماجی اور مذہبی جذبات بھڑکانے کی کوشش کی۔ وی ایچ پی رہنما مکیش دوبے کی شکایت پر پالگھر پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم مسلسل سناتن مخالف اور سماج میں نفرت و انتشار پھیلانے والی پوسٹیں کرتا رہا ہے، اس لیے اس کے سوشل میڈیا نیٹ ورک اور رابطوں کی بھی گہرائی سے جانچ کی جانی چاہیے۔وی ایچ پی کے شعبہ منتری چندن سنگھ نے کہا کہ پولیس انتظامیہ کو ملزم کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سناتن دھرم، ملک اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف منصوبہ بند طریقے سے قابلِ اعتراض مواد پھیلا کر سماجی ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ وی ایچ پی رہنما مکیش دوبے نے بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض پوسٹ ڈال کر سماج میں کشیدگی پھیلانے والوں کو کسی بھی قیمت پر بخشا نہیں جائے گا۔اس دوران ایڈوکیٹ شیوم دوبے نے بھی بجرنگ دل کی جانب سے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا۔ اس موقع پر ضلع منتری جیش گھرت، شری پد پاٹل، کاچو شیٹی، وجے شیٹی، روہت شکلا، آکاش نارکھیڑے، دلیپ جوشی، روبن سنگھ، پربھات ٹھاکر، شانتی لال سوتھار اور سچن چودھری سمیت بڑی تعداد میں بجرنگ دل اور وی ایچ پی کارکن موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے