کوئلے کی وزارت جمعرات کودہلی میں 28 مئی کو روڈ شو کا انعقادکرے گی
نئی دہلی،27مئی (ہ س)۔وزارتِ کوئلہ کل سطحی کوئلہ/لگنائٹ گیسیفکیشن پروجیکٹوں کے فروغ کی اسکیم پر ایک روڈ شو منعقد کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے لیے 37,500 کروڑ روپے کی مالیاتی لاگت مختص کی گئی ہے۔ یہ اقدام کوئلہ گیسیفکیشن کو ایک نسبتاً صاف قدر میں ا
کوئلے کی وزارت جمعرات کودہلی میں 28 مئی کو روڈ شو کا انعقادکرے گی


نئی دہلی،27مئی (ہ س)۔وزارتِ کوئلہ کل سطحی کوئلہ/لگنائٹ گیسیفکیشن پروجیکٹوں کے فروغ کی اسکیم پر ایک روڈ شو منعقد کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے لیے 37,500 کروڑ روپے کی مالیاتی لاگت مختص کی گئی ہے۔ یہ اقدام کوئلہ گیسیفکیشن کو ایک نسبتاً صاف قدر میں اضافے والے طریقہ? کار کے طور پر فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد بھارت کے وسیع کوئلے کے ذخائر اور لگنائٹ وسائل کے مو¿ثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔اس تقریب میں کوئلہ اور کانوں کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی اور کوئلہ اور کانوں کے مرکزی وزیر مملکت جناب ستیش چندر دوبے شرکت کریں گے۔ کوئلے کی وزارت کے سکریٹری جناب وکرم دیو دت ، کوئلے کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب سنوج کمار جھا اور وزارتوں کے دیگر سینئر افسران بھی اس تقریب کے دوران موجود رہیں گے۔

یہ روڈ شو وزارت کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک میں کوئلہ گیسیفکیشن کے ایک مضبوط نظام کی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ اس تقریب میں پالیسی ساز، ریاستی حکام، صنعت کے رہنما، سرمایہ کار، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے، مالیاتی ادارے اور دیگر اہم شراکت دار ایک ساتھ جمع ہوں گے تاکہ ابھرتے ہوئے مواقع، شراکت داریوں اور بھارت میں کوئلہ گیسیفکیشن کے مستقبل کے روڈ میپ پر غور و خوض کیا جا سکے۔یہ اسکیم 2030 تک 100 ملین ٹن (ایم ٹی ) کوئلے کو گیسیفائی کرنے کے قومی ہدف کے حصول کی جانب ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس سے بھارت کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور ایل این جی، یوریا، امونیا اور میتھانول جیسی اہم اشیائ کی درآمدات پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔تقریباً 2.5 سے 3 لاکھ کروڑ روپے کی متوقع سرمایہ کاری کے ساتھ، اس اسکیم سے ملک کے کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں تقریباً 25 منصوبوں کے ذریعے 50,000 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں، اس اسکیم کے تحت 75 ملین ٹن (ایم ٹی) کوئلہ اور لگنائٹ کے استعمال سے سالانہ تقریباً 6,300 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے اضافی بالواسطہ آمدنی بھی پیدا ہوگی۔

2021 میں شروع کیے گئے نیشنل کوئلہ گیسیفکیشن مشن اور جنوری 2024 میں منظور کی گئی 8,500 کروڑ روپے کی کوئلہ گیسیفکیشن اسکیموں کی بنیاد پر، جن کے تحت آٹھ منصوبوں کے لیے 6,233 کروڑ روپے کی ترغیبی رقم مختص کی گئی ہے اور جو پہلے ہی عملدرآمد کے مرحلے میں ہیں، یہ نئی اسکیم ملک میں کوئلہ گیسیفکیشن کے اقدامات کے لیے معاونت کو نمایاں طور پر وسعت دیتی ہے۔کوئلے کی گیسیفیکیشن گھریلو کوئلے اور لگنائٹ کوقدر میں اضافہ شدہ ( ویلیو ایڈڈ) مصنوعات جیسے سنگیس ، میتھانول ، امونیا ، مصنوعی قدرتی گیس ، صاف اور کیمیائی خام مال میں تبدیل کرنے کے لیے ایک تبدیلی کے راستے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ توقع ہے کہ اس پہل سے صنعتی ترقی کے لیے نئے راستے کھلیں گے ، وسائل کے استعمال میں اضافہ ہوگا اور ملک کی طویل مدتی توانائی کی امنگوں کو تقویت ملے گی۔

یہ روڈ شو شراکت داروں کو ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں وہ حال ہی میں منظور شدہ اسکیم سے ابھرنے والے مواقع پر تبادلہ? خیال کر سکیں گے اور سطحی کوئلہ اور لگنائٹ گیسیفکیشن منصوبوں کے تیز تر نفاذ کے لیے مختلف راستوں کو تلاش کر سکیں گے۔ یہ وزارتِ کوئلہ کے اس مسلسل عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ صاف کوئلہ ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے، توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور “آتم نربھر بھارت” کے وڑن کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande