اپوزیشن کے زبردست ہنگامہ کے درمیان آسام اسمبلی میں متنازعہ یو سی سی بل منظور
گوہاٹی، 27مئی (ہ س)۔ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل بدھ کے روز آسام اسمبلی میں ایک طویل اور شدید بحث کے بعد منظور کیا گیا۔ اس کے ساتھ آسام یو سی سی کو نافذ کرنے والا ملک کی تیسری اور شمال مشرق کی پہلی ریاست بن گیا۔ اسمبلی میں اس بل کو حکمران اتحاد کی
آسام اسمبلی میں متنازعہ یو سی سی بل منظور


گوہاٹی، 27مئی (ہ س)۔ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل بدھ کے روز آسام اسمبلی میں ایک طویل اور شدید بحث کے بعد منظور کیا گیا۔ اس کے ساتھ آسام یو سی سی کو نافذ کرنے والا ملک کی تیسری اور شمال مشرق کی پہلی ریاست بن گیا۔

اسمبلی میں اس بل کو حکمران اتحاد کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کی بہت سی دفعات پر اعتراض کیا۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ یہ قانون تمام شہریوں، خاص طور پر خواتین کے مساوی حقوق اور انصاف کو یقینی بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔اسمبلی میں بحث کے دوران حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان تیکھی نوک جھونک بھی ہوئی۔ حزب اختلاف کے ارکان نے الزام لگایا کہ یہ قانون انفرادی مذہبی روایات میں مداخلت کرے گا، لیکن احتجاج کے باوجود بل کو صوتی ووٹ سے منظور کیا گیا۔

’یکساں سول کوڈ (یو سی سی)، آسام، 2026 بل‘ پر ایک دن کی بحث کے بعد اسپیکر رنجیت کمار داس نے وزیر اعلی ہیمنت بسوا شرما سے کہا کہ وہ اسے منظوری کے لیے پیش کریں۔

اسپیکر نے بل کو مزید بحث کے لیے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ احتجاج میں اپوزیشن اراکین ایوان کے وسط میں جمع ہو گئے اور بل کی منظوری تک نعرے بازی جاری رکھی۔حکمراں جماعت کی طرف سے ’بھارت ماتا کی جے‘ اور’جے شری رام‘ کے مسلسل نعروں کے درمیان، اسپیکر نے صوتی ووٹ کے ذریعے بل کو منظور کرنے کے لیے پیش کیا۔

حکمراں جماعت کے بل کے حق میں ووٹ دینے کے بعد، اسپیکر نے اعلان کیا، ’میں اعلان کرتا ہوں کہ یہ بل منظور ہو چکا ہے‘۔ جیسے ہی بل منظور ہوا، ایوان میں زور شور سے اس کا استقبال کیا گیا۔پیر کو آسام حکومت نے اسمبلی میں ’یکساں سول کوڈ (یو سی سی)‘ پر ایک بل پیش کیا تھا۔ بہت سے نجی معاملات جیسے شادی، طلاق، وراثت، اور لائیو ان ریلیشنز کو مذہب سے قطع نظر سب کے لیے یکساں طور پر قانون سازی کی جانی تھی۔ اس بل کا مقصد کثرت ازدواج پر پابندی لگانا اور لائیو ان ریلیشن شپ کے اندراج کو لازمی بنانا ہے۔

تاہم، بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قانون آسام میں رہنے والے کسی بھی درج فہرست قبائل کے شخص پر لاگو نہیں ہوگا۔ بل میں متعدد تعزیری اقدامات کی تجویز پیش کی گئی ہے، جن میں دو شادیوں یا کثرت ازدواج کے لیے سات سال قید اور لائیو ان ریلیشن شپ کا اندراج نہ کرنے پر تین ماہ قید کی سزا شامل ہے۔بل کے تحت شادیوں کو 60 دن کے اندر رجسٹر کرنا ہوگا جبکہ لائیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑوں کو 30 دن کے اندر رجسٹر کرنا ہوگا۔ قواعد کی عدم تعمیل پر سزا کا بھی التزام ہے۔ مقررہ وقت کی حد کے اندر جان بوجھ کر شادی یا طلاق کا اندراج نہ کرنے پر 10,000 روپے کا جرمانہ ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande