امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بدلے ایران کو 12 ارب ڈالر کی پیشکش ،قطر نے کی تردید
دوحہ،26مئی (ہ س)۔قطر نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے ایران کو 12 ارب ڈالر کی رقم پیش کی ہے، قطر نے اصرار کیا ہے کہ یہ رپورٹس بالکل بے بنیاد ہیں۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان
امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بدلے ایران کو 12 ارب ڈالر کی پیشکش ،قطر نے کی تردید


دوحہ،26مئی (ہ س)۔قطر نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے ایران کو 12 ارب ڈالر کی رقم پیش کی ہے، قطر نے اصرار کیا ہے کہ یہ رپورٹس بالکل بے بنیاد ہیں۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے تحریر کیا ہے کہ یہ رپورٹس ان فریقین کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں جو اس معاہدے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے کی جانے والی قطر کی سفارتی کوششیں سب کے سامنے اور بالکل واضح ہیں، یہ من گھڑت کہانیاں امن سازی میں ایک قابل اعتماد بین الاقوامی کھلاڑی کے طور پر ریاستِ قطر کی ساکھ کو متاثر کرنے کی محض ایک مایوس کن کوشش ہیں۔

دوحہ نے مختلف تازہ ترین پیش رفتوں کے حوالے سے متعلقہ ممالک کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی کا عمل تیز کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، تاکہ علاقائی اور بین الاقوامی استحکام کو مضبوط کیا جا سکے۔انہوں نے ذکر کیا کہ سفارتی حل تک پہنچنا ہی بحرانوں سے نمٹنے، خطے کو کشیدگی کے اثرات سے بچانے اور علاقائی امن و سکیورٹی پر اس کے مرتب ہونے والے منفی اثرات سے د±ور رکھنے کا بہترین راستہ ہے۔یہ بیانات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے اس انکشاف کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد قطری دارالحکومت دوحہ پہنچا ہے، تاکہ خطے میں جنگ کے خاتمے اور غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں کو واگزار کرانے سے متعلق بات چیت کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس وفد میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قال?باف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر مذاکرات کیے جا سکیں، جبکہ وفد میں مرکزی بینک کے گورنر بھی موجود ہیں تاکہ منجمد فنڈز کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے جو ممکنہ حتمی معاہدے کے تحت مفاہمت کی یادداشت کا ایک حصہ ہے۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وفد دوحہ کے اپنے اس دورے کے دوران آبنائے ہرمز اور اعلیٰ افزودہ یورینیم سے متعلق سٹریٹجک مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande