گاچھ پاڑا ۔ نونیا ٹولی کی سڑک بنی بدعنوانی کی مثال ،2.86 کروڑ روپے کی لاگت سے بنی سڑک خستہ حال
کشن گنج، 26 مئی (ہ س)۔ حکومت بہارسڑکوں کو ترقی دینے اور دیہی علاقوں میں رابطے کو بہتر بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن کشن گنج ضلع میں گاچھ پاڑا-نونیا ٹولی سڑک ان دعووں کی حقیقت کو بے نقاب کرتی نظر آتی ہے۔ تقریباً 28.6 کروڑروپے کی لاگت سے تعمیر ہونے
2.86 کروڑ روپے کی سڑک بدعنوانی کی مثال ،گاچھ پاڑا ۔ نونیا ٹولی سڑک خستہ حال


کشن گنج، 26 مئی (ہ س)۔ حکومت بہارسڑکوں کو ترقی دینے اور دیہی علاقوں میں رابطے کو بہتر بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن کشن گنج ضلع میں گاچھ پاڑا-نونیا ٹولی سڑک ان دعووں کی حقیقت کو بے نقاب کرتی نظر آتی ہے۔

تقریباً 28.6 کروڑروپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی 2700 کلو میٹر طویل یہ سڑک صرف چند سالوں میں ہی خراب ہو کر بدعنوانی اور غفلت کی مثال بن گئی ہے۔ گٹی اکھڑ چکی ہے، ڈامر غائب ہو گیا ہے اور گہرے گڑھے پیدل چلنے والوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سڑک مارچ 2021 میں مکمل ہوئی تھی۔تعمیراتی کام کی ذمہ داری ٹھیکیدار انظار عالم کو دی گئی تھی۔

منصوبے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سڑک پانچ سال تک اچھی حالت میں رہے گی، اور ٹھیکیدار اس کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوگا۔ دیکھ بھال کے لیے تقریباً 22.78 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ قواعد کے مطابق متعلقہ ایجنسی اور ٹھیکیدار سڑک کے معیار کو برقرار رکھنے اور مارچ 2026 تک مرمت کے ذمہ دار تھے۔

گاؤں والوں کا الزام ہے کہ تعمیر کے فوراً بعد ہی سڑک کی سطح اکھڑنا شروع ہوگئی۔ بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت سے سڑک جگہ جگہ دھنسنے لگی اور گڑھے بن گئے۔ شکایات کے بعد ایک بار مرمت کی گئی، لیکن کوئی بہتری نہیں آئی۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ کے کشن گنج کے دورے سے قبل سڑک کی آناًفاناً میں مرمت کر کے خراب حالت کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ دورہ ختم ہوتے ہی سڑک پھر خراب ہوگئی۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اس راستے سے روزانہ ہزاروں چھوٹی، بڑی اور بھاری گاڑیاں گزرتی ہیں، اس لیے سڑک کی تعمیر مضبوط بنیادوں اور معیار کے مطابق ہونی چاہیے تھی۔ غیر معیاری مواد کے استعمال اور تکنیکی معیارات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے گاؤں والوں نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بارش کے موسم میں گہرے گڑھوں میں پانی بھر جاتا ہے جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے آئے روز حادثات کا شکار ہو رہے ہیں لیکن انتظامی سطح پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ دریں اثنا محکمہ دیہی تعمیرات کے ایگزیکٹیو انجینئر ودیانند پرساد نے بتایا کہ سڑک کو پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کو منتقل کر دیا گیا ہے اور جلد ہی تعمیر و مرمت کا کام شروع ہو جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande