پونے قانون ساز کونسل نشست پر این سی پی میں اندرونی اختلافات، چار سابق اراکین اسمبلی امیدوار
پونے، 26 مئی (ہ س) پونے کی قانون ساز کونسل کی ایک نشست کو لے کر مہایوتی میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ اسی دوران این سی پی کے چار سابق اراکین اسمبلی کی جانب سے امیدوار بننے کی خو
Politics-Pune-MLC-NCP


پونے، 26 مئی (ہ س) پونے کی قانون ساز کونسل کی ایک نشست کو لے کر مہایوتی میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ اسی دوران این سی پی کے چار سابق اراکین اسمبلی کی جانب سے امیدوار بننے کی خواہش ظاہر کیے جانے کے بعد پارٹی کے اندر علاقائی اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

اس حلقہ سے اب تک زیادہ تر شہری علاقوں کو نمائندگی ملتی رہی ہے، جس کے سبب اب ضلع کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سابق اراکین اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بار دیہی خطے کو نمائندگی دی جائے۔ دوسری جانب پونے اور پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن میں پارٹی کو دوبارہ مضبوط بنانے کے مقصد سے شہری علاقوں کے سابق اراکین اسمبلی امیدوار بننے پر زور دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث این سی پی میں شہری بمقابلہ دیہی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس پس منظر میں نائب وزیراعلیٰ سنیترا پوار کے سامنے ایسا متفقہ حل نکالنے کا چیلنج پیدا ہو گیا ہے جسے تمام دھڑے قبول کر سکیں۔

پونے مقامی خوداختیاری ادارہ حلقہ میں اب تک این سی پی کا غلبہ رہا ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں میں بی جے پی نے بھی اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ این سی پی (اجیت پوار گروپ) کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کے پاس 344 اراکین کی حمایت موجود ہے، جبکہ بی جے پی کے پاس 309 اور شیوسینا (شندے گروپ) کے 68 اراکین ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ دؤنڈ کی ’ناگرک ہت سرکشن منڈل وکاس آگھاڑی‘ کے 17 اور انداپور کی ’کرشنا بھیما وکاس آگھااڑی‘ کے 7 اراکین کی حمایت کے بعد اس کے پاس مجموعی طور پر 333 اراکین کی طاقت موجود ہے۔ اسی وجہ سے اس نشست کو لے کر مہایوتی کے اتحادی جماعتوں کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande