
بے گناہ کو انصاف تومل گیا مگر ان کی زندگیاں بربادکرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچائے بغیر انصاف ادھوراہے :مولانا ارشدمدنی جمعیةعلماءمہاراشٹرا لیگل سیل اور ان کے وکلاءکی محنت رنگ لائینئی دہلی،26مئی(ہ س)۔ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزمات کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ میں آج کٹک کی خصوصی سیشن عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ سیشن عدالت نے گذشتہ سماعت پر فریقین کے وکلائ کی بحث کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج ظاہر کیا گیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرتے ہو ئے سیشن عدالت کو مقدمہ کی سماعت دو ماہ میں مکمل کیئے جانے کی سخت ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت پر استغاثہ نے اس مقدمہ کی تفتیش کرنے والے دو افسران کی گواہی مکمل ہوتے ہوئے گواہان کے بیانات مکمل کیئے جانے کا فیصلہ کیا اورسیشن عدالت سے درخواست کی کہ وہ حتمی بحث کی سماعت کرے، جس پر عدالت نے پہلے ملزم کا 313? کا بیان درج کیا اور پھر اس کے بعد فریقین کے دکلائ کے دلائل کی سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی جمعی? علمائ مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے سیشن عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک کی ہے۔
القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت مولانا عبدالرحمن کٹکی پر دہلی، جمشید پور اور کٹک میں تین علیحدہ علیحدہ مقدمات قائم کیئے گئے تھے۔سپریم کورٹ آف انڈیا میں جمعی? علمائ ہند کی طرف سے مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کیخلاف گواہی دینے کے لیئے پیش کیے گئے گواہان میں سے 20? گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں، اس کے باوجود ملزم کو جیل میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے مخالفت کی تھی۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بجائے ٹرائل کو رٹ کو سخت ہدایت جاری کی تھی جس کے بعد مقدمہ کی سماعت میں تیزی آئی اور آج عدالت نے فیصلہ صادر کردیا۔مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پر رہائی کے لیئے جمعی? علمائ قانونی امداد کمیٹی نے تین مرتبہ ہائی کورٹ اور دو مرتبہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی لیکن ہر مرتبہ سنگین الزامات کو بنیاد بناکر انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے عدالتوں نے انکار کردیا تھا۔
جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیاکہ کسی ثبوت کے بغیر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے مسلم نوجوانوں کی زندگیو ں کو تباہ کیا جاتا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بھی انصاف کے حصول میں دس سال لگ گئے۔ مولانا عبد الرحمن کٹکی بے گناہ ثابت ہوئے ہیں ان کے اہل خانہ کے لئے یہ ایک بڑادن ہے ، کیونکہ اس کے لئے انہیں 10برس تک انتظارکرناپڑا، یہ 10برس انہوں نے امید اورناامیدی کی جس اندوہناک اذیت میں گزارے ہوں گے ، ہم اس کا تصوربھی نہیں کرسکتے ، انہوں نے کہا کہ جمعی?علمائ مہاراشٹرا کے لیگل سیل کی ایک اورکامیابی ہے، جب اس کے قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں ان کو رہائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برسوں سے یہ مطالبہ بھی کرتے آئے ہیں کہ تفتیشی ایجنسیوں اورپولس کی جواب دہی طے کی جانی چاہئے ، جب تک ایسا نہیں کیاجائے گا، نہ صرف دہشت گردی بلکہ دوسرے قوانین کی آڑمیں بھی بے گناہوں کی زندگیاں اسی طرح تباہ وبربادکی جاتی رہیں گی ، انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ آج جو ملک کے سیاسی حالات ہیں اس میں پولس اورایجنسیوں کے لئے مسلمان آسان ٹارگیٹ ہے۔
مولانا مدنی یہ بھی کہا کہ ایسے معاملات میں جہاں عوامی جذبات مشتعل ہوتے ہیں متعصب میڈیا ٹرائل کے ذریعہ کسی کو بھی مجرم بنادیا جاتاہے ، پریس کانفرنس پہلے کی جاتی ہے ثبوت بعد میں تلاش کئے جاتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کسی طرح کی جواب دہی کے فقدان کے نتیجہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بات کی مکمل چھوٹ مل جاتی ہے کہ وہ جس کو چاہے مجرم بنادے ، نہ توان کا کوئی محاسبہ ہوگااورنہ ہی اس کے لئے ان سے کسی طرح کا کوئی سوال ہی ہوگا، انہوں نے کہا کہ اس چھوٹ نے انہیں بے لگام کردیا ہے جس کی مثال یہ معاملہ ہے کہ جب انصاف کے حصول میں 10 برس کا طویل عرصہ لگ گیا اور بے گناہ باعزت بری ہوگیامگر ان لوگوں سے کوئی بازپرس نہیں ہوئی جنہوں نے اس کی زندگی بربادکی، اس کے لئے متاثرین کو کوئی معاوضہ بھی نہیں ملے گا۔مولانا مدنی نے کہا کہ ہماری نظرمیں یہ انصاف ادھوراہے جب تک جواب دہی طے نہیں کی جائے گی اور بے گناہوں کی زندگیاں تباہ کرنے والوں کو کوئی سزانہیں دی جائے گی اس افسوس ناک سلسلہ کا خاتمہ نہیں ہوگاقانون کی آڑمیں اسی طرح بے گناہوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہوتارہے گااورملک کا میڈیا ایک مخصوص فرقہ کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلاکر اسے بدنام کرتارہے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی سخت برہمی کا اظہارکیا کہ نام نہاد قومی میڈیا اکثرمتعصب الکٹرانک میڈیا مسلمانوں کی گرفتاری کے وقت طوفان کھڑاکردیتاہے اوران کے خلاف ٹرائل شروع کردیتاہے ، جب یہی لوگ عدالت سے باعزت بری ہوتے ہیں تومیڈیاکو سانپ سونگھ جاتاہے یہ جانبدارانہ رویہ صحافت کے پیشہ سے خیانت ہے۔
آج کے عدالتی فیصلے پر صدر جمعیة علماءمہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی سے جاری قانونی جدوجہد کا آج خاتمہ ہوا، اور مولانا عبدالرحمن کوانصاف حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے نے مولانا کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے۔ یہ قانونی لڑائی آسان نہیں تھی لیکن جمعی?علمائ مقدمہ کی پیروی کرتی رہی۔اس دوران جمعیةعلماءکوبار بار اعلیٰ عدالتوں کا رخ کرنا پڑا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais