
تہران،26مئی (ہ س)۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے باور کرایا ہے کہ ایرانی مسلح افواج پر کسی بھی حملے کا جواب حتمی اور منہ توڑ دیا جائے گا۔عزیزی نے آج منگل کے روز سرکاری ٹیلی ویڑن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر ایرانی عوام کے دشمنوں نے کوئی غلطی کرنے یا کوئی اقدام اٹھانے کی کوشش کی، تو ایرانی افواج انھیں کچھ بھی کرنے سے روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ بیان امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران میں بعض اہداف پر کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جنھیں امریکی فوجی حکام نے دفاعی حملے قرار دیا تھا۔ یہ ایسی کشیدگی ہے جو امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات کے ساتھ ہی رونما ہوئی ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب امریکی حملوں کے بعد ایرانی حکام کے رد عمل کافی حد تک محدود رہے ہیں۔
دوسری جانب آج اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے یقین دہانی کرائی کہ امریکہ کے نئے حملوں کے باوجود ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ روبیو نے بھارت کے سرکاری دورے کے دوران جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا قطر میں کچھ بات چیت ہوئی ہے، ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم کوئی پیش رفت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ابتدائی دستاویز کے مخصوص نکات پر بہت زیادہ بحث چل رہی ہے، اس لیے اس میں چند دن لگیں گے۔ایک با خبر عہدے دار نے گذشتہ روز پیر کو وضاحت کی تھی کہ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قال?باف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے ذریعے تین ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے سلسلے میں قطر کے وزیرِ اعظم سے بات چیت کے لیے دوحہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے کسی فوری کامیابی کی امیدوں کو کم کیے جانے کے بعد ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایرانی فریق کے ساتھ مذاکرات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے ان کے ناکام ہونے کی صورت میں نئے حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا یا تو سب کے لیے ایک بہترین معاہدہ ہوگا، یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں اب بھی کچھ نکات حل طلب ہیں، جن میں افزودہ یورینیم کا مستقبل اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی فنڈز شامل ہیں۔
دوسری طرف پاکستان اور قطر امریکی ایرانی نقطہ نظر کو قریب لانے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ کسی ابتدائی معاہدے یا ابتدائی اصولوں کی دستاویز تک پہنچا جا سکے جو 28 فروری کو بھڑکنے والے اس تنازع کا خاتمہ کر سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan