قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی بینائی بچانے میں تھانے سول اسپتال ریاست میں سرفہرست
۔ ایک سال میں ایک ہزار بچوں کے آر او پی ٹیسٹ، 10 بچوں کا کامیاب علاج
Health Thane ROP Children


ممبئی ، 26 مئی (ہ س) تھانے سول اسپتال کا پیڈیاٹرک آئی ڈپارٹمنٹ قبل از وقت پیدا ہونے والے اور کم وزن والے بچوں میں پائی جانے والی خطرناک بیماری “ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی” (آر او پی) کی جانچ اور علاج کے معاملے میں ریاست میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اسپتال میں ایک ہزار بچوں کے آر او پی ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 10 بچوں کا کامیاب علاج کیا گیا۔ اس شعبے میں تھانے ضلع نے ریاست میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔

آر او پی ایسی بیماری ہے جو عموماً وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں میں پائی جاتی ہے۔ اگر بروقت اس کی تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو بچوں کی بینائی ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی ہے یا مکمل اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔ اسی خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے تھانے سول اسپتال میں خصوصی پیڈیاٹرک آئی ڈپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں بچوں کی باقاعدہ آنکھوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔

آپتھلمولوجسٹ ڈاکٹر شبھانگی امباڈیکر نے بتایا کہ یہ شعبہ ضلع سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار اور ایڈیشنل ضلع سرجن ڈاکٹر دھیرج مہانگڑے کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ اسٹیٹ فیملی ویلفیئر کی رہنما ہدایات کے مطابق این آئی سی یو اور ایس این سی یو میں زیر علاج بچوں کی خصوصی اسکریننگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید ریٹینل کیمرے کی مدد سے بچوں کی آنکھوں کی جانچ کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق فوری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے کئی بچوں کی بینائی محفوظ رکھنے میں مدد ملی ہے اور والدین میں بھی بیداری پیدا ہوئی ہے۔

اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں آئی سرجن ڈاکٹر شبھانگی امباڈیکر، ڈاکٹر راہل گرو، نرس اسمیتا قدم، شیتل جٹھار، نیلم نکالجے اور کیرتی بوراڈے سمیت دیگر طبی عملہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تھانے ضلع کے سول سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار نے کہا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو آر او پی کے باعث بینائی کھونے کا شدید خطرہ رہتا ہے، تاہم بروقت اسکریننگ اور علاج کے ذریعے اس خطرے سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانے سول اسپتال میں بڑے پیمانے پر جاری جانچ بچوں کی آنکھوں کی روشنی بچانے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande