
بیڑ ، 26 مئی (ہ س)۔ بیڑضلع کے پاتوڈا تعلقہ کی ضلع پریشد اسکولوں کی خستہ حالی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں 33 کلاس رومز انتہائی مخدوش حالت میں پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث طلبہ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ آنے والے مانسون کے پیش نظر 22 کلاس رومز کی فوری مرمت ضروری قرار دی گئی ہے، لیکن انتظامی بے حسی کے باعث یہ معاملہ سرکاری کارروائیوں اور فائلوں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے اندرونی انتشار کی وجہ سے 16 جون سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کی تیاریوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ گزشتہ برس چنچولی علاقے کے ایک اسکول کی دیوار اچانک گر گئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے اس وقت طلبہ کلاس روم میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث بڑا حادثہ ٹل گیا تھا۔
ان اسکولوں میں زیر تعلیم بیشتر بچے گنا کاٹنے والے مزدوروں اور کھیت مزدور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ والدین کا الزام ہے کہ انتظامیہ بچوں کی سلامتی کی ذمہ داری لینے سے گریز کر رہی ہے۔ فنڈ کی کمی کا بہانہ بنا کر مرمت کے کام میں تاخیر کیے جانے پر والدین میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی شہریوں اور سرپرستوں نے اعلیٰ حکام سے فوری اور ٹھوس فیصلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مانسون سے قبل اسکول عمارتوں کی مرمت مکمل ہو سکے اور طلبہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے