
نئی دہلی، 26 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے دہلی ریس کلب کو خالی کرنے کے حکم پر روک کو ہٹادیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عوامی جگہ پر غیر مجاز طور پر قبضہ کرنے والے کو بے دخل کرے۔
سماعت کے دوران اے ایس جی چیتن شرما نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے دلیل دی کہ شوکاز نوٹس کے خلاف دہلی ریس کلب کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی ریس کلب کو پبلک پریمیسس ایکٹ کے سیکشن 4 کے تحت اسٹیٹ آفیسر کے پاس اپنا اعتراض درج کرنا چاہئے۔
ڈویژن بنچ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سیکشن 4 کے تحت اسٹیٹ آفیسر کے ذریعے کسی بھی عوامی احاطے سے غیر مجاز قابضین کو ہٹانے کے لیے کارروائی کرے۔ اسٹیٹ آفیسر کی کارروائی پر روک فیصلے کے مترادف ہے۔ ڈویڑن بنچ نے نوٹ کیا کہ 84.484 ایکڑ اراضی دہلی ریس کلب کو 1926 میں لیز پر دی گئی تھی۔ یہ لیز 31 دسمبر 1994 کو ختم ہو گئی تھی۔ ڈویژن بنچ نے کہا کہ اگر قانونی قابضین کی لیز کی میعاد ختم ہو جائے تب بھی اسے غیر مجاز قبضہ تصور کیا جائے گا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اسٹیٹ آفیسر نے 17 اپریل کو دہلی ریس کلب کو وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا کہ کیوں اس کے خلاف بے دخلی کا حکم جاری نہیں کیا جانا چاہیے۔ دہلی ریس کلب نے اس نوٹس کو سنگل بنچ کے سامنے چیلنج کیا۔ سنگل بنچ نے 24 اپریل کو نوٹس پر روک لگا دی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی