
نئی دہلی، 25 مئی (ہ س)۔ سونے کے زیورات کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی یشسوی جیلرز کا ₹43.88 کروڑ کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 27 مئی تک بولیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 29 مئی کوشیئروں کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ الاٹ کیے گئے حصص یکم جون کو ڈیمیٹ اکاؤنٹ میں کر دیڈٹ کر دیئے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 2 جون کوبی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پرلسٹ ہو سکتے ہیں۔
اس آئی پی او کے لیے بولی کی قیمت ₹ 83 فی حصص مقرر کی گئی ہے، جبکہ لاٹ سائز1600 حصص کا ہے ۔ اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کاروں کو دو لاٹ،یعنی 3200 حصص کے لیے بولی لگانے کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے انہیں ₹2,65,600 کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس آئی پی او کے تحت10روپے کی فیس ویلیو والے کل 52,86,400 حصصجاری کئے جا رہے ہیں۔ ان میں سے 2,67,200 نئے حصص مارکیٹ میکر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
اس آئی پی او میں،خوردہ سرمایہ کاروں کے لئے 47.52 فیصد ایشو اورغیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے 47.43 فیصد مختص ہے۔ ا س کے علاوہمارکیٹ میکرز کے لیے 5.05فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔اس ایشو کے لئے اسمارٹ ہورائزن کیپٹل ریزرو پرائیویٹ لمیٹڈ کوبک رننگ لیڈ مینیجر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بگ شیئر سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار بنایا گیا ہے۔ شرینی شیئرز لمیٹڈ کمپنی کا مارکیٹ میکر ہے۔
یشسوی جیولرز کی مالی حالت کی بات کریں تو ، کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی حالت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ کمپنی نے مالی سال 2023-24 میں ₹1.96 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا تھا، جو اگلے مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 11.28کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2025-26کے دوران چھلانگ لگا کر 18.28کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں، اس نے ₹200.93 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر ₹297.76 روپے اورمالی سال 2025-26میں چھلانگ لگا کر ₹449.74 کروڑ روپے کی سطح پر آ گئی ۔
اس دوران کمپنی پر قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا رہا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر، کمپنی پر 16.25 کروڑ روپے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 43.11 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 65.36 کروڑ روپے ہو گیا۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں یہ 8.75 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 24.15 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 2025-26 میں کمپنی کی نیٹ ورتھ 43.48 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
کمپنی کے ذخائر اور سرپلس کے حوالے سے، کمپنی نے اس عرصے میں نمایاں ترقی بھی حاصل کی ہے۔ مالی سال 2023-24 میں، یہ ذخائر ₹3.83 کروڑ روپے کی سطح پر تھے، جو 2024-25 میں بڑھ کر ₹11.90 کروڑ روپے ہو گئے۔ اسی طرح 2025-26 میں، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس ₹31.15 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔ اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹرسٹ ، ٹیکسز، ڈپریشیئسنزاینڈ ایمورٹائزیشن) 2023-24 میں ₹4.95 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 2024-25میں بڑھ کر ₹18.33 کروڑ روپے اور 2025-26 میں ₹29.88 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد