
واشنگٹن،24مئی (ہ س)۔
امریکی ویب گاہ ’ایکسیوس‘ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کے تحت جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کی جائے گی اور اس مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ ایران آزادانہ طور پر اپنے تیل کی فروخت جاری رکھ سکے گا اور ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔
ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ان 60 دنوں کے دوران آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس یا ٹیکس کے کھولا جائے گا اور ایران اس بات پر رضامندی ظاہر کرے گا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جو بارودی سرنگیں بچھائی تھیں، انہیں ہٹا دیا جائے تاکہ بحری جہازوں کو نقل و حرکت کی مکمل آزادی حاصل ہو سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے بدلے میں اور مجوزہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کر دے گا اور پابندیوں میں کچھ ایسی چھوٹ جاری کرے گا جس سے ایران کو آزادانہ طور پر تیل بیچنے کی اجازت مل سکے۔رپورٹ کے مطابق معاہدے کے مسودے میں ایران کی جانب سے یہ وعدے بھی شامل ہیں کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، اپنے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو معطل کرنے کے لیے مذاکرات کرے گا اور اعلیٰ سطح پر افزودہ کیے گئے یورینیم کے اپنے ذخائر کو تلف کر دے گا۔دو ذرائع نے ایکسیوس کو بتایا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو زبانی یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی معطلی اور جوہری مواد سے دستبردار ہونے کے حوالے سے کس حد تک مراعات دینے کے لیے تیار ہے۔ایکسیوس کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ بھی ان 60 دنوں کے دوران پابندیاں ہٹانے اور منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کو بحال کرنے کے حوالے سے مذاکرات کرنے پر موافقت کا اظہار کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan