
جھنجھنو، 23 مئی (ہ س)۔
جھنجھنو کے 22 سالہ پردیپ نے این ای ای ٹی امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد اپنے کرائے کے کمرے میں پھانسی لگا لی۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے جمعہ کو متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے راہل گاندھی کو بچے کی ماں، باپ اور چچا سے بات کرائی۔ والد نے راہل گاندھی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی وہ امتحانی مرکز سے نکلے، انہوں نے کہا تھا کہ اس بار اس کا نکل جائے گا ۔ ماں نے پوچھا وہ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اب ہم کیا کریں گے؟ اہل خانہ کی بات سننے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک بات ہے۔ ہم اسے واپس نہیں لا سکتے لیکن اگر ہم مدد کر سکتے ہیں تو براہ کرم ہمیں بتائیں۔
پردیپ میگھوال (22) راجستھان کے جھنجھنو ضلع کے گڈھا گودجی علاقے کے کنیکا کی دھنی بدیا نالہ گاو¿ں کا رہنے والا تھا۔ وہ پچھلے تین سالوں سے سیکر میں رہ رہا تھا، میڈیکل کے داخلے کے امتحان، نیٹ کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ اپنی بہنوں کے ساتھ سیکر کے پپرالی روڈ پر کرائے کے کمرے میں رہتا تھا اور ایک پرائیویٹ سینٹر سے کوچنگ لے رہا تھا۔ پردیپ نے 3 مئی 2026 کو نیٹکا امتحان دیا تھا۔ امتحان کے بعد، اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ وہ 720 میں سے 650 نمبر حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ تاہم، نیٹ پیپر لیک تنازعہ کے بعد امتحان کی منسوخی کی خبر نے اسے بہت پریشان کر دیا۔ اس کے بعد جمعہ 15 مئی کو پردیپ نے سیکر میں اپنے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔
پولیس کے مطابق اس وقت اس کی ایک بہن کوچنگ گئی ہوئی تھی جب کہ دوسری باتھ روم میں تھی۔ جب وہ باہر آئی تو اس نے پردیپ کو کمرے میں لٹکا ہوا پایا۔ پڑوسیوں اور گھر والوں کو اطلاع دی گئی۔ اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پردیپ کے والد راجیش کمار نے بتایا کہ خاندان نے ان کے بیٹے کی تعلیم پر تقریباً 8 سے 11 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان نے اپنا گھر بھی نہیں بنایا تاکہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بن سکے۔ امتحان منسوخ ہونے کے بعد، پردیپ بہت پریشان ہو گیا اور مسلسل دباو¿ میں رہتا تھا۔ ونود جاکھڑ نے راہل گاندھی کو فون کرکے پورے واقعہ کی جانکاری دی۔ راہل گاندھی نے متوفی پردیپ کے اہل خانہ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ دریں اثنا، گاو¿ں والوں نے احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک انصاف نہیں ملتا وہ پردیپ میگھوال کی راکھ کو گنگا میں نہیں بہائیں گے۔
ہندوستھان ساچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ