کنویں میں ڈوبنے سے تین قبائلی طالبات کی موت، ایک دوسرے کو بچانے میں گئی جان
کنویں میں ڈوبنے سے تین قبائلی طالبات کی موت، ایک دوسرے کو بچانے میں گئی جان رائسین، 23 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع کی غیرت گنج تحصیل کے سگور گاوں میں ہفتہ کے روز پینے کے پانی کا بحران ایک دردناک حادثے کا سبب بن گیا۔ گاوں سے تقریباً ایک کل
رائسین: بچیوں کو لے کر اسپتال پہنچے گاوں والے۔


کنویں میں ڈوبنے سے تین قبائلی طالبات کی موت، ایک دوسرے کو بچانے میں گئی جان

رائسین، 23 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع کی غیرت گنج تحصیل کے سگور گاوں میں ہفتہ کے روز پینے کے پانی کا بحران ایک دردناک حادثے کا سبب بن گیا۔ گاوں سے تقریباً ایک کلومیٹر دور پانی بھرنے گئی تین قبائلی طالبات کی کنویں میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش میں تینوں بچیاں گہرے پانی میں سما گئیں۔ واقعے کے بعد پورے گاوں میں سوگ اور ماتم کا ماحول ہے۔

متوفی بچیوں کی شناخت رادھا (12) اور تنو (13) دونوں دختران ہلکے رام اور امریتا (12) دختر رام گوپال کے طور پر ہوئی ہے۔ رادھا اور امریتا پانچویں کلاس، جبکہ تنو آٹھویں کلاس کی طالبہ تھی۔ رادھا اور تنو سگی بہنیں تھیں۔ معلومات کے مطابق، ہفتہ کی صبح تقریباً 11 بجے تینوں بچیاں گاوں سے دور واقع کنویں پر پانی بھرنے گئی تھیں۔ اسی دوران وہ نہانے لگیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اچانک ایک بچی کا پیر پھسل گیا اور وہ کنویں میں گر گئی۔ اسے بچانے کی کوشش میں دوسری بچی بھی پانی میں اتر گئی، لیکن وہ بھی گہرائی میں ڈوبنے لگی۔ دونوں کو بچانے کے لیے تیسری بچی نے بھی کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ کنویں میں پانی زیادہ اور گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے تینوں باہر نہیں نکل سکیں۔

واقعے کے وقت وہاں موجود ایک اور بچی امینا نے حادثہ دیکھا اور دوڑ کر گاوں پہنچی۔ اطلاع ملتے ہی گاوں والے موقع پر پہنچے اور کافی مشقت کے بعد تینوں بچیوں کو کنویں سے باہر نکالا۔ انہیں فوری طور پر غیرت گنج سول اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد تینوں کو مردہ قرار دے دیا۔ حادثے کی خبر ملتے ہی اسپتال کے احاطے اور گاوں میں لوگوں کا بھاری ہجوم جمع ہو گیا۔ ایک ہی گاوں کی تین بچیوں کی بے وقت موت سے پورا علاقہ صدمے میں ہے۔ اطلاع ملنے پر گڑھی پولیس چوکی کا عملہ موقع پر پہنچا اور جانچ شروع کر دی۔ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔

گاوں والوں نے انتظامیہ سے متوفی بچیوں کے اہل خانہ کو مالی امداد دینے اور گاوں میں محفوظ اور مستقل پینے کے پانی کا انتظام یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کے مسئلے کی وجہ سے گاوں والوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کو روزانہ لمبا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے، جس سے اس طرح کے حادثات کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande