
حیدرآباد، 23 مئی (ہ س)۔
بی آرایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آرنے کانگریس اوربی جے پی پرسنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیاکہ وزیراعلی ریونت ریڈی اورمرکزی مملکتی وزیربندی سنجے کے درمیان خفیہ ملی بھگت چل رہی ہے اور اسی گٹھ جوڑکے تحت پوکسو کیس کے ملزم بنڈی بھا گیرتا کوبچانے اورتحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آرنے حکومت سے استفسار کیاکہ کیوں اس حساس کیس میں ملزم کوکس کی ایماء پر راحت فراہم کیاجارہا ہے۔ ہفتہ کومنعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اس پورے معاملے کے بشمول ریاست کی موجودہ صورتحال پرایک وائیٹ پیپرجاری کرنا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔ کے ٹی آر نے ریاست میں کسانوں کی ابتر حالت زاراوردھان کی خریدی کے سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے وزیراعلی اور وزراء کی جانب سے 80 فیصد دھان خریدنے کے دعوے کو مضحکہ خیزقرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اورثبوت پیش کرنے پر سیاست سے کنارہ کشی کرنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ ابھی تک 35 فیصد سے زائد اناج کی خریداری نہ ہوسکی ۔ ریونت ریڈی کے حالیہ بیانات 2034 تک وہی وزیراعلی برقرار رہنے کے دعوؤں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے وزیراعلی کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے اپنے ارکان اسمبلی سے استعفیٰ دلاکر ریاست میں دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنے کا مطالبہ کیا۔ بی آرایس کے ورکنگ پریسیڈ نٹ نے کہا کہ اگر کانگریس اس چیلنج کو قبول کرتی ہے تو وہ خود بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے اور دوبارہ عوامی عدالت میں جانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں کیوں کہ ریاست کے عوام کانگریس حکومت کی جھوٹی پالیسیوں اور بدعنوانیوں سے تنگ آچکے ہیں ۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق