
حیدرآباد، 23 مئی (ہ س)۔
انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ حکام نے گروگرام سے ہیرا گروپ کی سربراہ نوہیرہ شیخ کوگرفتارکرلیا جس پرشبہ ہے کہ وہ 3000 کروڑ روپئے کے سرمایہ کاری کے نام پردھوکہ دہی کے معاملہ میں ملوث ہے۔ نوہیرہ شیخ پرالزام ہے کہ اس نے ملک بھر میں تقریباً 1.72 لاکھ سرمایہ کاروں کودھوکہ دیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے بتایا کہ نوہیرہ شیخ طویل عرصہ سے غائب تھیں اورگرفتاری سے بچنے کیلئے جعلی شناختیں اورتلبیس شخصی کیلئے تیاردستاویزات شیخ قمرجہاں کے نام سے استعمال کررہی تھیں۔ انہیں 21 مئی کو ای ڈی اور ہریانہ پولیس کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں حیدرآباد لایا گیا۔یہ تفتیش تلنگانہ اورآندھرا پردیش پولیس کی درج کردہ ایف آئی آرکی بنیاد پر شروع ہوئی تھی۔ تحقیقات میں الزام ہے کہ نوہیرہ اور اْن کے ساتھیوں مولی تھامس، بیجو تھامس نے سرمایہ کاروں سے تقریباً 3000 کروڑ روپے جمع کئے اور سالانہ تقریباً 36 فیصد منافع کاوعدہ کیا تھا۔ ای ڈی حکام نے بتایا کہ وعدہ کردہ منافع کبھی ادا نہیں کیا گیا اور رقم نان ریزیڈنٹس (کئی خلیجی ممالک بشمول یواے ای اورسعودی عرب میں رہنے والے) سے بھی جمع کرائی گئی۔ای ڈی کا کہنا ہے کہ ہیرہ گروپ کی کوئی حقیقی کاروباری سرگرمی موجود نہیں تھی اور سرمایہ کاروں کی رقم ذاتی کھاتوں میں منتقل کر کے نقل و حرکت اور غیر منقولہ جائیدادیں خریدنے میں استعمال کی گئی ۔ تحقیقات میں پتہ چلاکہ نوہیرہ نے24 کمپنیاں قائم کیں اور ملک بھر میں 182 بینک اکاؤنٹس آپریٹ کئے،جبکہ چندغیر ملکی بینک میں بھی رقمی لین دین رکھا۔ایجنسی نے اس سے قبل مبینہ طور پر حاصل شدہ غیر قانونی رقم سے متعلق کئی جائیدادیں ضبط کر رکھی تھیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ان جائیدادوں کی نیلامی کا عمل شروع کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے یہ ہدایت دی تھی کہ نیلام شدہ اثاثہ جات میں فوری ہیرا گولڈ کی سربراہ سیل ڈیڈ کے ذریعہ اپنے حق سے دستبردار ہوجائیں۔ تاہم ای ڈی کا الزام ہے کہ نوہیرہ بار بار نیلامی کے عمل میں تعاون میں ناکام رہیں اور اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں کیں۔ سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت منسوخ کر دی اور انہیں ایک ہفتے میں خود سپردگی کی ہدایت دی۔عدالتی حکم کے باوجود وہ لاپتہ رہیں اور عدالتوں کو گمراہ کرتی رہی کہ ضمانت منسوخ ہونے کے بعد جیل حکام کے روبروم خود سپردگی اختیار کی تھی جو غلط ثابت ہوئی۔۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق